کسٹمز اپریزمینٹ (ویسٹ) نے بھارتی سامان کی غیر قانونی درآمد کی کوششیں ناکام بنا دیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بدھ کو جاری بیان میں کہا ہے کہ کسٹمز اپریزمینٹ (ویسٹ) کلکٹریٹ نے متعدد مواقع پر ملک میں بھارتی ساختہ اشیاء کی غیر قانونی درآمد کی کوششوں کو ناکام بنایا، جو غلط بیانی کے ذریعے کی جا رہی تھیں۔
بیان کے مطابق پہلا کیس اُس وقت سامنے آیا جب ایک درآمدکنندہ نے ٹیکسٹائل مشینری کے کنسائنمنٹ کو چین کی مصنوعات ظاہر کر کے کلیئر کرانے کی کوشش کی، مگر جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ مشینری دراصل بھارتی ساختہ ہے۔
ایف بی آر کے مطابق کسٹمز کی بروقت کارروائی سے 2 کروڑ 42 لاکھ 20 ہزار روپے مالیت کی ممنوعہ اشیاء کی کلیئرنس کو روکا گیا۔
اس واقعے کے بعد کلکٹریٹ نے کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (کےآئی سی ٹی) اور آف ڈاک ٹرمینلز پر نگرانی سخت کر دی، جس کے نتیجے میں مزید تین مشکوک کنسائنمنٹز کو روکا گیا۔
دوسرا کنسائنمنٹ ٹیکسٹائل مشینری پر مشتمل تھا، جسے جبل علی سے آیا ہوا اور چینی ساختہ ظاہر کیا گیا تھا۔ معائنے کے دوران پتا چلا کہ مشینری کی مینوفیکچرر پلیٹس اور لیبلز جان بوجھ کر ہٹا دیے گئے تھے۔تاہم برقی آلات پر میڈ اِن انڈیا کی مہر موجود تھی اور مشین کے فریم پر ایک معروف بھارتی برانڈ کا نام درج تھا۔
اس کنسائنمنٹ کی مالیت 1 کروڑ 66 لاکھ روپے کے لگ بھگ بتائی گئی ہے۔اسی طرح تیسرا کنسائنمنٹ جس کی مالیت 3.76 لاکھ روپے ہے، بھی جبل علی سے آیا اور چینی مصنوعات ظاہر کیا گیا۔
تفصیلی جانچ سے معلوم ہوا کہ پاور ڈسٹری بیوشن یونٹ کے مین پینل پر واضح میڈ اِن انڈیا کی نشان دہی موجود تھی۔
اسی طرح چوتھی شپمنٹ کو ترکیہ کے شہر امبرلی سے آیا ہوا اور ترک ساختہ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم اس کی پیکنگ پر بھی واضح میڈ اِن انڈیا کی مہر موجود تھی۔اس شپمنٹ کی مالیت 0.154 ملین روپے (1 لاکھ 54 ہزار روپے) بتائی گئی ۔
ایف بی آر کے بیان میں کہا گیا کہ کلکٹریٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ غلط بیانی اور ممنوعہ اشیاء کی غیر قانونی درآمد میں ملوث درآمد کنندگان کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسی غیر قانونی سرگرمیاں نہ صرف ملکی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ شفاف تجارت اور قومی مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔


Comments
Comments are closed.