لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن(ایل ٹی بی اے) نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے ایف بی آر کے اُس افسر کے خلاف قانونی کارروائی کریں، جس نے سپریم کورٹ کے وکیل وحید شہزاد بٹ کو ایف بی آر میں مبینہ بدعنوانی بے نقاب کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔
ایل ٹی بی اے کی جانب سے جاری خط میں جس کی نقول صدرِ پاکستان، وزیراعظم، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، وزیر قانون، چیئرمین ایف بی آر، پاکستان بار کونسل، لاہور ہائی کورٹ بار اور سپریم کورٹ بار کو ارسال کی گئیں، بار کے ارکان نے مذکورہ افسر کے دھمکی آمیز رویے کی شدید مذمت کی ہے۔
خط کے مطابق ایف بی آر افسر نے بغیر کسی ثبوت کے بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرنے والے وکیل کو ہراساں کیا اور غیرذمہ دارانہ الزامات لگائے، جو کہ وکلا ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2023 کی دفعات 2 اور 9 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان دفعات کے تحت وکیل کو ڈرانا، دھمکانا یا اس کے فرائض میں مداخلت قابل سزا جرم ہے۔
ایل ٹی بی اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ افسر کے خلاف سول سرونٹس رولز 2020 کے تحت کارروائی کی جائے، تحریری معافی نامہ ایف ٹی او میں جمع کروایا جائے اور پولیس کے ذریعے ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔
ایسوسی ایشن نے زور دیا ہے کہ وکلا کی آزادی اور قانون کی بالادستی ہر حال میں برقرار رکھی جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.