انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید بہتری کی جانب گامزن ہے۔
صبح 10 بجکر 20 منٹ پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 21 پیسے (0.07 فیصد) کی بہتری سے 280.90 روپے پر جاپہنچا۔
یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹیٹ بینک کے مطابق مقامی کرنسی 281.11 پر بند ہوئی تھی۔
عالمی سطح پر امریکی ڈالر جمعہ کو دباؤ میں رہا کیونکہ عالمی تجارتی کشیدگی اور امریکی معیشت میں کمزوری کی علامات نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرحِ سود میں کمی کے امکانات کو تقویت دی۔
ڈالر انڈیکس تقریباً تین ماہ میں اپنی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ کی طرف بڑھ رہا ہے کیونکہ امریکی حکومت کے طویل شٹ ڈاؤن کے باعث اہم معاشی اعداد و شمار کی اشاعت رک گئی ہے۔
ین نے اپنے فوائد برقرار رکھے جب بینک آف جاپان کے گورنر کازوؤ اوئیڈا نے ان عوامل پر بات کی جو اس ماہ شرحِ سود میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
ڈالر انڈیکس معمولی تبدیلی کے ساتھ 98.23 پر رہا اور اس ہفتے 0.6 فیصد کی کمی کے راستے پر ہے جو جولائی کے آخر کے بعد پانچ دنوں میں سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
جاپانی ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر 0.2 فیصد کمزور ہو کر 150.12 پر آ گیا۔
بینک آف جاپان کے گورنر اوئیڈا نے جمعرات کو واشنگٹن میں کہا کہ اگر بینک کی ترقی اور قیمتوں کے اندازوں کے حقیقت بننے کے امکانات بڑھتے ہیں تو مرکزی بینک اپنی کلیدی پالیسی ریٹ میں اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ بینک آف جاپان کے نائب گورنر شینیچی اوچیڈا جمعہ کو خطاب کریں گے۔
یورو میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1.1701 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ (اسٹرلنگ) نے بھی 0.1 فیصد بڑھ کر 1.3446 ڈالر کی سطح حاصل کی۔
فیڈرل ریزروکے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا کہ وہ اس ماہ کے آخر میں امریکی مرکزی بینک کے اجلاس میں شرحِ سود میں مزید کمی کے حامی ہیں۔
فیڈ کے نئے رکن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاشی مشیر، اسٹیفن میرن نے آنے والے اجلاسوں میں زیادہ جارحانہ شرحِ سود میں کمیوں کی حمایت دہرائی، جو ان کے کچھ ساتھیوں کے محتاط مؤقف سے زیادہ ہیں۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے


Comments
Comments are closed.