امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی سمندری راستوں تک پھیل گئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے منگل کے روز سے ایک دوسرے کے جہازوں پر اضافی پورٹ فیس عائد کرنا شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام عالمی شپنگ صنعت میں مسابقت کو متاثر کرنے کے خدشات کو بڑھا رہا ہے۔
چینی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق، بیجنگ نے امریکی ملکیت، آپریشن یا پرچم والے جہازوں پر خصوصی چارجز عائد کرنا شروع کر دیے ہیں، تاہم چین میں تیار کردہ جہاز ان فیسوں سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق، یہ فیس ہر جہاز کے پہلے داخلے والے بندرگاہ پر یا ایک سال میں ابتدائی پانچ سفر کے دوران وصول کی جائے گی۔
دوسری جانب، امریکی انتظامیہ نے بھی چین سے منسلک جہازوں پر یکساں فیس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو 14 اکتوبر سے نافذ العمل ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، اس اقدام سے چینی شپنگ کمپنی کوسکو (کوسکو) کو سب سے زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے، جو 2026 تک اندازاً 3.2 ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرے گی۔
یہ اقدام اُس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر الزام لگایا کہ وہ عالمی شپنگ اور شپ بلڈنگ صنعت میں غیر منصفانہ پالیسیوں کے ذریعے غلبہ حاصل کر رہا ہے۔ چین نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی جہازوں پر بھی اسی نوعیت کی فیس عائد کرنے کا اعلان کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ٹِٹ فار ٹیٹ اقدامات عالمی تجارتی بہاؤ کو بگاڑ سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ شپنگ صنعت پر فوری بڑا اثر متوقع نہیں، البتہ بڑھتے ہوئے اخراجات بالآخر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
شنگھائی اسٹاک ایکسچینج میں کوسکو کے حصص منگل کو دو فیصد سے زیادہ بڑھ گئے، جبکہ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے شیئرز کی خریداری کے ذریعے سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کرے گی۔


Comments
Comments are closed.