پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبر پختونخوا کے نو منتخب وزیرِاعلیٰ سہیل خان آفریدی کی حلف برداری کو یقینی بنانے کے لیے حکمتِ عملی کو حتمی شکل دے دی ہے۔
پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر گورنر فیصل کریم کنڈی نے حلف لینے سے انکار کیا تو وہ عدالت سے رجوع کرے گی۔
پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر گورنر نے تقریبِ حلف برداری سے انکار کیا تو ہم چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے درخواست کریں گے کہ وہ یا تو خود حلف کی تقریب کا اہتمام کریں، گورنر کو ہدایت جاری کریں یا کسی مجاز شخصیت کو اس کے لیے نامزد کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل عثمان زئی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک رِٹ پٹیشن تیار کریں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر عدالت میں دائر کی جا سکے۔
جنید اکبر نے کہا ہماری کوشش ہے کہ حلف برداری کا عمل پیر کی شام تک مکمل کر لیا جائے۔
دوسری جانب گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے سابق وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ منظور کرنے کے بجائے اس پر اعتراضات اٹھائے جانے سے آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے کہ نو منتخب وزیرِاعلیٰ سے حلف کون لے گا۔
ادھر اپوزیشن نے بھی صورتحال کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ وزیرِاعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی ہے اور وہ اس معاملے کو منگل کے روز عدالت میں لے جائیں گے۔
پی ٹی آئی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جنید اکبر نے کہا کہ جس طرح ہم اپنا وزیرِاعلیٰ منتخب کرنے میں کامیاب ہوئے، اسی طرح ان کی حلف برداری کو بھی ہر صورت یقینی بنائیں گے۔


Comments
Comments are closed.