BR100 Decreased By (-0.09%)
BR30 Decreased By (-0.08%)
KSE100 Decreased By (-0.11%)
KSE30 Decreased By (-0.04%)
BAFL 55.67 Increased By ▲ 0.16 (0.29%)
BIPL 23.85 Decreased By ▼ -0.12 (-0.5%)
BOP 27.07 Decreased By ▼ -0.23 (-0.84%)
CNERGY 12.28 Decreased By ▼ -0.12 (-0.97%)
DFML 16.49 Increased By ▲ 0.70 (4.43%)
DGKC 177.35 Increased By ▲ 1.77 (1.01%)
FABL 89.00 Decreased By ▼ -1.01 (-1.12%)
FCCL 49.84 Increased By ▲ 0.19 (0.38%)
FFL 13.00 Decreased By ▼ -0.36 (-2.69%)
GGL 18.80 Increased By ▲ 0.11 (0.59%)
HBL 282.95 Decreased By ▼ -0.31 (-0.11%)
HUBC 188.49 Increased By ▲ 0.63 (0.34%)
HUMNL 8.04 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
KEL 5.66 Increased By ▲ 0.11 (1.98%)
LOTCHEM 22.40 Decreased By ▼ -0.64 (-2.78%)
MLCF 86.80 Increased By ▲ 0.17 (0.2%)
OGDC 298.49 Increased By ▲ 0.37 (0.12%)
PAEL 32.10 Increased By ▲ 0.05 (0.16%)
PIBTL 12.72 Increased By ▲ 0.17 (1.35%)
PIOC 224.00 Decreased By ▼ -0.17 (-0.08%)
PPL 210.98 Increased By ▲ 0.81 (0.39%)
PRL 94.05 Decreased By ▼ -0.47 (-0.5%)
SNGP 89.44 Decreased By ▼ -0.69 (-0.77%)
SSGC 22.34 Decreased By ▼ -0.18 (-0.8%)
TELE 6.55 Decreased By ▼ -0.11 (-1.65%)
TPLP 11.45 Decreased By ▼ -0.06 (-0.52%)
TRG 53.60 Increased By ▲ 1.06 (2.02%)
UNITY 7.74 Increased By ▲ 0.12 (1.57%)
WTL 0.89 No Change ▼ 0.00 (0%)

ملک کی کپاس مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے شدید مندی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں فی من قیمت میں 500 سے 600 روپے تک کمی واقع ہوئی جس کے ساتھ ہی اسپاٹ ریٹ بھی 500 روپے کمی کے بعد 15,100 روپے فی من مقرر کیا گیا۔

سندھ میں کپاس کی قیمت 14,800 سے 15,300 روپے، جبکہ پھٹی کی قیمت 7,000 سے 7,600 روپے فی 40 کلوگرام رہی۔ اسی طرح پنجاب میں کپاس 14,750 سے 15,300 روپے اور پھٹی 7,000 سے 8,200 روپے فی 40 کلوگرام میں فروخت ہوئی ۔

بلوچستان میں کپاس کی قیمت 15,100 سے 15,300 روپے فی من ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کے مطابق قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی 30 ستمبر کی رپورٹ ہے، جس میں پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا ہے۔

آئندہ 15 روز میں بھی پھٹی کی آمد متوقع طور پر زیادہ رہے گی، جس سے مارکیٹ پر دباؤ برقرار ہے۔

7 اکتوبر کو عالمی یومِ کپاس کے موقع پر کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے تقریب منعقد کی، جس میں ماہرین نے معیاری بیج کی فراہمی، جدید جننگ ٹیکنالوجی اور کاٹن کنٹرول ایکٹ 1966 پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر سی سی آر آئی ملتان کے ماہر ساجد محمود نے کہا کہ غیر معیاری بیج اور پرانی جننگ مشینری سے پاکستانی کپاس کے معیار میں کمی آ رہی ہے، جو برآمدات اور معیشت دونوں پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔

دوسری جانب آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے توانائی کے بلند نرخوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتیں خطے کے مقابلے میں زیادہ ہونے سے صنعت و برآمدات دونوں متاثر ہو رہی ہیں اور صنعتی زوال کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

Comments

Comments are closed.