فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق گزشتہ رات ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ اسکول پر حملے کے دوران 6 پولیس اہلکار، جن میں تربیتی عملہ بھی شامل تھا، شہید اور 5 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ “حملہ آوروں نے اسکول کی بیرونی سیکورٹی کو توڑنے کی کوشش کی، تاہم ڈیوٹی پر موجود قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی چوکسی اور بروقت کارروائی نے ان کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے۔ مایوسی کے عالم میں دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی گیٹ سے ٹکرا دی۔”
آئی ایس پی آر کے مطابق پولیس اہلکاروں نے غیرمتزلزل بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بھارت کی حمایت یافتہ تنظیم “فتنہ الخوارج” سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ “باقی دو دہشت گردوں کو ایک عمارت میں گھیر کر سیکورٹی فورسز نے ایک منظم کلیئرنس آپریشن کے دوران انتہائی درست کارروائی میں ہلاک کر دیا ہے۔”
آئی ایس پی آر کے مطابق “ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران چھ پولیس اہلکار، جن میں تربیت حاصل کرنے والے اہلکار بھی شامل تھے، بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگئے جبکہ 12 اہلکار اور ایک بے گناہ شہری زخمی ہوئے۔”
بیان میں بتایا گیا ہے کہ بزدلانہ حملے کے دوران دہشت گردوں نے اسکول کمپلیکس کے اندر موجود مسجد کو نشانہ بنایا، جہاں انہوں نے نہ صرف اس مقدس عبادت گاہ کی بے حرمتی کی بلکہ ایک شہری، جو اسکول میں امام مسجد کے فرائض انجام دے رہا تھا، کو بھی بے دردی سے شہید کر دیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا اور اس گھناونے اور بزدلانہ حملے میں ملوث تمام مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے، پوری قوم کے شانہ بشانہ، بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ بہادر اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کی یہ قربانیاں ملک کے دفاع کے عزم اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عہد کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہفتے کے روز ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت نے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور سوگوار خاندانوں سے ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔
صدرِ مملکت نے ان بہادر اہلکاروں کی قربانیوں کو سراہا جنہوں نے وطنِ عزیز کے دفاع کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کر کے جرأت و بہادری کی عظیم مثال قائم کی۔
انہوں نے پولیس اور سیکورٹی فورسز کے بروقت اور جری ردِعمل کی تعریف کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم اور افواجِ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک متحد ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی اپنے پیغام میں ان پولیس اہلکاروں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جو دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
وزیراعظم نے شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور ان کے لواحقین سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی اور حکام کو ہدایت کی کہ انہیں ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے۔
وزیراعظم نے صوبائی پولیس فورس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ “خیبر پختونخوا پولیس ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول میں رہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “پوری قوم اپنے شہداء کو سلام پیش کرتی ہے۔”
ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو دہراتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ “دہشت گردوں کے ایسے بزدلانہ حملے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔” انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت دہشت گردی کی ہر شکل کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
علاوہ ازیں خیبرپختونخوا پولیس کے مطابق رات دیرگئے اسلام خان کے علاقے رتہ کلاچی میں پولیس ٹریننگ اسکول پر دہشت گرد حملے کے جواب میں 5 گھنٹے طویل کارروائی کے دوران کم از کم 3 پولیس اہلکار شہید اور 6 دہشت گرد مارے گئے۔
پولیس کے مطابق حملے میں مزید 6 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ تمام ٹرینی بھرتی اور عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
گزشتہ رات دہشت گردوں نے ٹریننگ اسکول پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ سیکیورٹی ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے فوری طور پر بھرپور جوابی کارروائی کی اور دہشت گردوں کے شیطانی منصوبوں کو ناکام بنادیا۔
خیبر پختونخوا پولیس کی ایک پریس ریلیز کے مطابق حملہ آوروں نے اسکول کے دروازے پر بارودی مواد سے بھرا ٹرک ٹکرایا جس سے دیوار کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔ دیوار گرنے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔
دھماکے کے بعد متعدد دہشت گرد جو مختلف یونیفارمز میں ملبوس تھے، اسکول میں داخل ہوئے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔ ایک پولیس اہلکار نے انہیں جواب میں فائر کیا لیکن دہشت گردوں کی جانب سے دستی بم پھینکے جانے پر وہ شہید ہوگیا۔
شدید فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا، اس دوران عسکریت پسند بار بار دستی بم پھینکتے رہے۔ اطلاع ملنے پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) صاحبزادہ سجاد احمد بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے اور آپریشن کی کمان سنبھالی۔ انہوں نے ایک منظم حکمت عملی کے تحت علاقے کو گھیر لیا۔ ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) سید اشفاق انور بھی موقع پر پہنچے اور فرنٹ لائن اہلکاروں کے ساتھ کھڑے ہوکر ان کے حوصلے بڑھائے۔
پولیس کے مطابق پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ 5 گھنٹے طویل کارروائی کے دوران 6 دہشت گرد ہلاک کیے اور ان کے قبضے سے خودکش جیکٹس، دھماکہ خیز مواد، ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کیے۔
اس دوران تین پولیس اہلکار شہید ہو گئے جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ ٹریننگ اسکول میں تقریباً دو سو کے قریب ٹرینی، اساتذہ اور اسٹاف موجود تھا جنہیں بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
آئی جی پی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کی فوری اور کامیاب کارروائی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی فرنٹ لائن پر موجودگی اور ان کے اہلکاروں کی بہادری نے ثابت کردیا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پختہ عزم کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ علاقے کو مکمل طور پر کلیئر قرار دے دیا گیا ہے اور اب سرچ اینڈ کلین آپریشن جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔


Comments
Comments are closed.