خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈا پور نے صوبائی کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے اہم وزارتیں نئے وزیروں کے سپرد کر دی ہیں۔ اس ردوبدل میں غیر منتخب محمد عاصم خان کو ابتدائی و ثانوی تعلیم کی اہم وزارت دی گئی ہے جبکہ سابق وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، خلیق الرحمن کو محکمہ صحت کا قلمدان سونپا گیا ہے۔
یہ ردوبدل اس وقت سامنے آیا جب صوبائی وزرا فیصل خان ترکئی اور عاقب اللہ خان نے اپنے استعفے وزیراعلیٰ کو پیش کیے۔ فیصل خان ترکئی، سابق صوبائی وزیر اور پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شاہرام خان ترکئی کے بھائی ہیں، جبکہ عاقب اللہ خان سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے بھائی ہیں۔ یہ پیش رفت وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے، جو حکمران جماعت میں شدید اختلافات کا ثبوت ہے۔
ردوبدل کے تحت فضل شکور کو محکمہ محنت سے ہٹا کر ثقافت، سیاحت، آثار قدیمہ اور عجائب گھروں کا قلمدان دیا گیا ہے جبکہ پختون یار خان کو پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی بجائے کھیل و امورِ نوجوانان کی وزارت دی گئی ہے۔ سید فخر جہان کو کھیلوں سے ہٹا کر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا قلمدان دیا گیا ہے۔
اسی دوران وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ، امجد علی کو صوبائی وزیر بنا کر وہی قلمدان دیا گیا ہے۔ مشیر صحت احتشام علی کو ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول جبکہ مشیر ثقافت زاہد چن زیب کو محکمہ محنت کا قلمدان دیا گیا ہے۔ اسی طرح وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے تجارت محمد اسرار کو محکمہ آبپاشی اور باجوڑ سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی حمید الرحمن کو وزیراعلیٰ کا معاون خصوصی مقرر کیا گیا ہے، جن کا قلمدان بعد میں دیا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.