ملک میں حالیہ سیلابوں کے بعد بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں ستمبر 2025 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 5.6 فیصد تک پہنچ گئی، جو اگست میں 3.0 فیصد تھی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 2.0 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ 0.6 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔
شہری علاقوں میں سالانہ مہنگائی 5.5 فیصد رہی جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 5.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ دیہی علاقوں میں مہنگائی میں ماہانہ بنیاد پر 2.8 فیصد کا اضافہ ہوا، جو شہری علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
خوراک کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ٹماٹر (65 فیصد)، گندم (37.6 فیصد)، آٹا (34.4 فیصد) اور پیاز (28.5 فیصد) میں ہوا۔ دیگر مہنگی ہونے والی اشیاء میں انڈے، مکھن، چینی، چاول اور گڑ شامل ہیں۔ اس کے برعکس مرغی، دالیں، چائے اور سبزیوں کی قیمتوں میں کچھ کمی ریکارڈ کی گئی۔
خوراک کے علاوہ دیگر اشیاء میں ایل پی جی، ڈاک خدمات، ادویات اور گھریلو ٹیکسٹائل کی قیمتیں بڑھیں، جبکہ بجلی کے نرخ، ٹرانسپورٹ اور درسی کتب سستی ہوئیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2026 میں مہنگائی کی شرح 6 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ صارف قیمت اشاریہ میں خوراک و مشروبات کا وزن 40 فیصد ہے، اس لیے سیلاب کے اثرات سے مہنگائی کی شرح سرکاری اندازوں سے بڑھ سکتی ہے۔


Comments
Comments are closed.