مالی سال 2024 میں حب پاور کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایکس ایچ یو بی سی) نے مالی سال 2024 کے مستحکم مالی نتائج کا اعلان کردیا ہے،اس دوران اس کی مجموعی آمدنی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آمدنی میں یہ اضافہ تھر انرجی لمیٹڈ ( ٹی ای ایل) کی جانب سے زیادہ بجلی کی ترسیل، کرنسی کی قدر میں کمی اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری کی وجہ سے ہوا ہے۔
اگرچہ تھر کے کوئلے پر مبنی پاور پلانٹس ( ٹی ای ایل اور ٹی این پی ایل ٹی) نے بہترین کارکردگی دکھائی جب کہ چینا پاور حب جنریشن کمپنی (سی پی ایچ جی او) کی کارکردگی میں کمی دیکھی گئی۔ فنانس لاگت میں نمایاں اضافے کے باوجود مجموعی مارجن میں تیزی سے بہتری آئی، جس کی وجہ شراکت دار کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہے، جو نئے پلانٹس کے آپریشنز اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث ممکن ہوا۔
مالی سال 2025 کے اختتام پر کمپنی کی مجموعی آمدنی 46.1 ارب روپے رہی، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

اس کمی کی بنیادی وجہ حب بیس پلانٹ کے پاور پرچیز ایگریمنٹ ( پی پی اے ) کی میعاد کا اکتوبر 2024 میں ختم ہونا اور نارووال الیکٹرک کے ٹیرف میں ترمیم تھی، جس سے کیش فلو میں کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں آمدنی میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 36 فیصد کمی آئی، جب کہ مجموعی منافع 42 فیصد تک گھٹ گیا۔
آمدنی میں کمی کے باوجود کمپنی نے مضبوط ڈیویڈنڈ پالیسی برقرار رکھی اور سال بھر کے لیے 15 روپے فی شیئر ڈیویڈنڈ کا اعلان کیا، جو سی پی ایچ جی او سے حاصل شدہ مضبوط ڈیویڈنڈز اور ٹی ای ایل و تھل نووا کی جانب سے مالی سال 2025 کی دوسری ششماہی میں متوقع پہلے ڈیویڈنڈز پر مبنی تھا۔
دوران سال کمپنی کی کارکردگی نے روایتی بجلی کے اثاثوں پر دباؤ کے باوجود منسلک آمدنی (ایسوسی ایٹ انکم) اور کم فنانس لاگت کے سہارے مستحکم رہنے کا مظاہرہ کیا۔
ایسوسی ایٹس اور جوائنٹ وینچرز سے حاصل شدہ منافع میں 16 فیصد کمی آئی، جس کی بڑی وجہ پرائم انٹرنیشنل میں آمدنی کی کمی تھی، جب کہ دیگر اخراجات میں 57 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ بنیادی طور پر نارووال میں قرضے کی معافی کے باعث تھا،تاہم مثبت پہلو یہ رہا کہ فنانس لاگت میں 43 فیصد کمی آئی، جو شرح سود میں کمی کے باعث ممکن ہوا اور اس سے کمپنی کے منافع کو جزوی سہارا ملا۔
آپریشنز کے لحاظ سے ایچ یو بی سی کے پاور پورٹ فولیو نے خاص طور پر تھر کوئلے کے پلانٹس پربہتر پیداواری استعداد دکھائی، جس سے زرمبادلہ کی نمایاں بچت ممکن ہوئی۔اگرچہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی (سی پی پی اے جی ) سے واجب الوصول رقوم کی سطح بلند رہی، تاہم واجب الادا ادائیگی کے دورانیے میں بہتری دکھنے میں آئی، جس کے نتیجےمیں حصص یافتگان (ڈیویڈنڈ)کو منافع کی ادائیگی میں آسانی ہوگئی۔
مالی سال 2025 میں ایچ یو بی سی کی تنوع کی حکمت عملی میں بھی تیزی آئی۔ آٹو موبائل جوائنٹ وینچر میگا موٹر کمپنی کے تحت گروپ نے بی وائی ڈی کی نئی گاڑیاں متعارف کروائیں، جن کی فروخت فروری 2025 میں لانچ کے بعد سے 2000 سے زائد یونٹس ہو چکی ہے۔
حبکو (ایچ یو بی سی) نے گھارو میں CKD (کمپلیٹ ناک ڈاون ) اسمبلی پلانٹ کی تعمیر شروع کر دی ہے،اس منصوبے کے پہلے مرحلے کی سالانہ پیداواری گنجائش 25,000 یونٹس ہوگی، جو مستقبل میں 50,000 یونٹس تک قابل توسیع ہے۔ اس پروجیکٹ کی کل سرمایہ کاری (سی اے پی ای ایکس) 150 ملین امریکی ڈالر ہے، جو کہ 60:40 کے قرض اور ایکویٹی ( ڈیبٹ ایکیوٹی) تناسب کے تحت مکمل کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپنی نے قومی شاہراہوں پر الیکٹرک وہیکل (ای وی ) چارجنگ انفرااسٹرکچر کی تنصیب کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔
توانائی اور آٹو موبائل سے آگے بڑھتے ہوئے حبکو کان کنی اور تلاش و پیداوار (ای اینڈ پی) کے شعبوں میں بھی قدم رکھ رہی ہے۔ مزید یہ کہ کمپنی حب پلانٹ کے آئل انفرااسٹرکچر کو سفید تیل (وائٹ آئل ) کی ترسیل کے لیے تبدیل کرنے، ایک ممکنہ ایلومینیم اسملٹر اور یہاں تک کہ ڈیٹا سینٹر کے قیام کا بھی اقتصادی جائزہ لے رہی ہے۔
مالی سال 2025 کے نتائج حبکو کے لیے ایک عبوری سال کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگرچہ پرانے پی پی اے معاہدوں کے خاتمے اور ٹیرف میں رد و بدل نے مالی کارکردگی پر دباؤ ڈالا ہے، تاہم کمپنی کی کوئلہ کان کنی، تلاش و پیداوار، آٹو موبائل اور الیکٹرک گاڑیوں کے انفرااسٹرکچر میں تنوع کی حکمت عملی اس کے پاور یوٹیلٹی سے ایک وسیع کاروباری گروپ میں بدلنے کی عکاسی کرتی ہے۔
شراکت دار کمپنیوں سے حاصل شدہ مضبوط ڈیویڈنڈز، بہتر ہوتے قابل وصول واجبات اور کم ہوتی فنانس لاگت نے کمپنی کی کارکردگی کو سہارا دیاہے، جب کہ الیکٹرک موبیلیٹی جیسے نئے منصوبے طویل مدتی ترقی کی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں، جو روایتی بجلی پیداوار سے آگے ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.