امریکی جج نے ٹرمپ کو ریاستوں کی آفات سے متعلق امداد کو امیگریشن قوانین کے نفاذ سے مشروط کرنے سے روک دیا
امریکی وفاقی جج نے بدھ کے روز فیصلہ دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہنگامی اور قدرتی آفات سے متعلق امدادی فنڈز حاصل کرنے کے لیے ریاستوں پر امیگریشن نفاذ میں تعاون کرنے کی شرط لگانا غیر قانونی اور آئین سے متصادم ہے۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج ولیم اسمتھ نے پروویڈنس، رہوڈ آئی لینڈ میں دیے گئے فیصلے میں 20 ڈیموکریٹک اکثریتی ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے حق میں فیصلہ دیا۔ ان ریاستوں نے مئی میں مقدمہ دائر کیا تھا کہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) فنڈز کو غیر قانونی طور پر امیگریشن پالیسیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، حالانکہ یہ فنڈز دراصل ایمرجنسی تیاری اور ڈیزاسٹر ریلیف کے لیے مختص ہیں۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی، جو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) اور فیما کی نگرانی کرتا ہے، نے موقف اختیار کیا تھا کہ وفاقی امیگریشن قانون کے نفاذ کے لیے یہ شرائط ضروری ہیں۔ تاہم، جج اسمتھ نے کہا کہ یہ پالیسی من مانی ہے اور آئین کی خلاف ورزی کرتی ہے کیونکہ یہ شرائط تمام گرانٹس پر لاگو کی گئیں، چاہے ان کا مقصد امیگریشن سے بالکل مختلف ہو۔
فیصلے میں لکھا گیا کہ اگر ریاستیں مبہم امیگریشن تقاضوں پر عمل کرنے سے انکار کریں تو ان کے پاس کوئی حقیقی متبادل نہیں رہتا، خاص طور پر جب ان کے بجٹ پہلے سے طے شدہ ہوں۔
نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے اس فیصلے کو ”زندگی بچانے والی ریلیف فنڈز کو یرغمال بنانے کی کوشش ناکام بنانے“ کے مترادف قرار دیا۔ دوسری جانب محکمہ کی ترجمان ٹریشیا میکلاخلن نے کہا کہ وہ ریاستیں جو ”غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاری میں رکاوٹ ڈالتی ہیں، وفاقی فنڈنگ کی مستحق نہیں ہونی چاہییں۔“
یہ فیصلہ ان کئی عدالتی کامیابیوں میں سے ایک ہے جو ریاستوں کو ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کے خلاف ملی ہیں۔ قبل ازیں جون میں رہوڈ آئی لینڈ کے ہی ایک اور جج نے ٹرانسپورٹیشن ڈیپارٹمنٹ کی اسی نوعیت کی شرط پر عمل درآمد کو روک دیا تھا۔
جج اسمتھ، جو ریپبلکن صدر جارج ڈبلیو بش کے نامزد کردہ ہیں، نے کہا کہ ڈی ایچ ایس نے اپنی پالیسی کو کبھی باضابطہ طور پر واپس نہیں لیا، اس لیے ریاستیں اب بھی اس مخمصے میں ہیں کہ یا تو وفاقی امیگریشن تقاضوں کو تسلیم کریں یا پھر ہنگامی اور ڈیزاسٹر ریلیف فنڈز سے محروم رہنے کا خطرہ مول لیں۔


Comments
Comments are closed.