BR100 Decreased By (-0.42%)
BR30 Increased By (0.43%)
KSE100 Decreased By (-0.03%)
KSE30 Decreased By (-0.5%)
BAFL 59.37 Increased By ▲ 0.35 (0.59%)
BIPL 27.22 Increased By ▲ 0.05 (0.18%)
BOP 35.20 Decreased By ▼ -1.26 (-3.46%)
CNERGY 12.87 Increased By ▲ 0.93 (7.79%)
DFML 18.25 Increased By ▲ 0.05 (0.27%)
DGKC 219.15 Increased By ▲ 1.12 (0.51%)
FABL 100.15 Decreased By ▼ -0.25 (-0.25%)
FCCL 57.95 Increased By ▲ 0.59 (1.03%)
FFL 16.49 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
GGL 24.38 Decreased By ▼ -0.24 (-0.97%)
HBL 323.49 Decreased By ▼ -1.13 (-0.35%)
HUBC 220.49 Decreased By ▼ -5.15 (-2.28%)
HUMNL 10.70 Decreased By ▼ -0.09 (-0.83%)
KEL 7.39 Increased By ▲ 0.07 (0.96%)
LOTCHEM 26.94 Decreased By ▼ -0.20 (-0.74%)
MLCF 103.80 Increased By ▲ 1.73 (1.69%)
OGDC 321.15 Increased By ▲ 1.96 (0.61%)
PAEL 43.75 Decreased By ▼ -0.13 (-0.3%)
PIBTL 16.73 Decreased By ▼ -0.11 (-0.65%)
PIOC 277.29 Increased By ▲ 2.45 (0.89%)
PPL 223.30 Increased By ▲ 1.75 (0.79%)
PRL 66.77 Increased By ▲ 3.02 (4.74%)
SNGP 103.96 Increased By ▲ 0.17 (0.16%)
SSGC 27.23 Decreased By ▼ -0.05 (-0.18%)
TELE 8.70 Increased By ▲ 0.08 (0.93%)
TPLP 15.80 Increased By ▲ 0.82 (5.47%)
TRG 61.15 Decreased By ▼ -2.14 (-3.38%)
UNITY 12.04 Increased By ▲ 0.53 (4.6%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)
کاروبار اور معیشت

ایف بی آر کا لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل فعال، پرتعیش شادیوں اور مہنگی تقریبات پر سوشل میڈیا کے ذریعے کڑی نظر

bتقریباً ایک کروڑ روپے کی لاگت والے شادی کے موقع پر ہیروں کے زیورات اور ڈرون لائٹ شو کو پاکستان کے ٹیکس حکام شواہد کے...
شائع اپ ڈیٹ

تقریباً ایک کروڑ روپے کی لاگت والے شادی کے موقع پر ہیروں کے زیورات اور ڈرون لائٹ شو کو پاکستان کے ٹیکس حکام شواہد کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ یہ نگرانی نئے ’لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل کے تحت کی جا رہی ہے، جو سوشل میڈیا پر عیاشی کرنے والوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کی 40 رکنی ٹیم نے اس ہفتے انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پوسٹس کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے ،تاکہ انفلوئنسرز، مشہور شخصیات، ریئل اسٹیٹ ایجنٹس اور کاروباری افراد کے ٹیکس گوشواروں کو ان کی طرزِ زندگی اور اثاثوں کے ساتھ ملایا جا سکے۔

یہ عوامی معلومات ہیں اور ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ایک کھلا اعلان ہیں۔ ایک سینئر ایف بی آر اہلکار نے بتایا کہ چند گھنٹوں میں ٹیکس چوری کے کیسز کھولے جا سکتے ہیں۔

ایف بی آر نے روئٹرز کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

 ۔
۔

ملک میں محصولات کی وصولی کے اہداف پورے نہ ہونے کی طویل تاریخ اور رواں سال کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے تعاون سے بجٹ میں مشکل اہداف حاصل کرنے کے لیے ایک نیا لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا ہے۔

پاکستان میں جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس کی شرح ایشیا میں سب سے کم ہے، اور یہ کمزوری ملک کو تقریباً دو درجن آئی ایم ایف پروگرامز میں لے گئی ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق ملک کے صرف 2 فیصد سے بھی کم لوگ انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

ریوٹرز کو حاصل داخلی دستاویز کے مطابق اس ماہ قائم ہونے والے اس یونٹ کا مینڈیٹ یہ ہے کہ وہ بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا منظم طریقے سے جائزہ اور تجزیہ کرے اورایسے افراد کی نشاندہی کرنا جو پرتعیش طرزِ زندگی اپنائے ہوئے ہیں مگر ٹیکس کے لیے رجسٹرڈ نہیں یا اپنی آمدنی اس طرح ظاہر کرتے ہیں جو ان کے اخراجات اور اثاثوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

دستاویز کے مطابق سیل مشتبہ افراد کی ڈیجیٹل پروفائل تیار کرے گا، ان کے طرزِ زندگی کے پیچھے موجود مالی وسائل کا جائزہ لے گا اور رپورٹس تیار کرے گا جو ٹیکس یا منی لانڈرنگ تحقیقات کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ یہ ایک مرکزی ڈیٹا بیس بھی برقرار رکھے گا، جس میں اسکرین شاٹس اور ٹائم اسٹیمپس شامل ہوں گے۔

ہیروں، ڈرونز، ڈی جیز اور ڈیٹا بیس

حکام کے مطابق ایک زیرِ جائزہ شادی تقریب کی لاگت تقریباً 2.48 کروڑ روپے تھی۔

ریوٹرز کو موصول دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریب میں ہیروں اور سونے کے زیورات پر تقریباً 5 کروڑ روپے اور دلہن کے ملبوسات پر تقریباً 2.5 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جو جنوبی ایشیا کے معروف ڈیزائنرز کے تیار کردہ تھے۔

مہمان پھولوں سے سجی شاہراہ سے داخل ہوئے ، ڈرونز نے آسمان کو روشن کیا اور 400 افراد کے لیے تیار کردہ متعدد کھانوں کا لطف اٹھایا۔ تقریب میں معروف میک اپ آرٹسٹ، ڈی جیز اور روایتی قوالی بینڈز نے بھی پرفارم کیا، جبکہ بین الاقوامی مشیر چھ روزہ تقریب کی ترتیب میں مدد کر رہے تھے، جسے حکام نے عیاشی کی علامت قرار دیا۔

 -
-

حکام کے مطابق یہ شادی صرف ان کئی کیسز میں سے ایک ہے جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے، حکام نے مزید بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم لگژری گاڑیوں، پُرتعیش مقامات کے دوروں اور مقبول شخصیات کی شاہانہ طرزِ زندگی دکھانے والی ویڈیوز کا بھی معائنہ کر رہی ہے۔

ایک اہلکار نے بتایا کہ لوگ خود ایونٹ مینیجرز، کیٹررز اور جیولرز وغیرہ کو ٹیگ کر دیتے ہیں، جس سے ہمارا کام آسان ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقریب میں شامل دونوں خاندانوں کے اخراجات ان کی ظاہر کردہ آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے۔

اگرچہ یہ یونٹ حال ہی میں قائم ہوا ہے مگر اس نے پہلے ہی متعدد کیسز کو گہرائی سے جانچ کے لیے شارٹ لسٹ کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ماضی کی کوششیں اعلیٰ آمدنی والے افراد کو ٹریک کرنے میں ناکام رہیں، مگر حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر توجہ دینے سے بے نامی دولت کی نشاندہی کے لیے مضبوط اور تیز ذرائع میسر آئے ہیں۔

Comments

Comments are closed.