انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ رک گیا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ ایک پیسے کی تنزلی سے 281.43 روپے پر جاپہنچا۔

یاد رہے کہ منگل کو مقامی کرنسی 281.42 پر بند ہوئی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر ڈالر بدھ کو تقریباً ایک ہفتے کی کم ترین سطح سے معمولی اوپر آگیا جبکہ تاجروں کو توقع ہے کہ رواں سال مزید دو مرتبہ امریکی شرحِ سود میں کمی کی جائے گی، حالانکہ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے گزشتہ شب مزید نرمی کے حوالے سے محتاط انداز اپنایا۔
آسٹریلوی ڈالر توقعات سے زیادہ بلند صارف افراطِ زر کے اعدادوشمار کے بعد مستحکم ہوا جو ریزرو بینک کے آئندہ پالیسی فیصلے سے کم ایک ہفتہ قبل جاری کیے گئے۔ نیوزی لینڈ کا ڈالر نئے مرکزی بینک کے سربراہ کے تقرر کے بعد مستحکم رہا۔
امریکی ڈالر انڈیکس 0.1 فیصد بڑھ کر 97.335 پر پہنچ گیا۔ یہ اضافہ مسلسل دو سیشنز میں گراوٹ کے بعد ریکارڈ کیا گیا جب انڈیکس جمعرات کے بعد سے کم ترین سطح 97.198 تک گر گیا تھا۔
مارکیٹ میں توقع کی جا رہی ہے کہ رواں سال فیڈ کی باقی دو پالیسی میٹنگز میں ہر بار شرحِ سود میں 0.25 فیصد کمی کی جائے گی۔ مزید کمی کی پیش گوئی 2026 کی پہلی سہ ماہی میں کی جا رہی ہے، جو فیڈ حکام کی حالیہ اندازہ بندی سے ہم آہنگ ہے۔ یہ اندازے گزشتہ ہفتے بدھ کو شرحِ سود میں پونے فیصد کمی کے بعد سامنے آئے۔
فیڈ کی پالیسی کے اعلان اور چیئرمین جیروم پاول کی پریس کانفرنس کے بعد ڈالر 96.224 کی سطح (جو اوائل 2022 کے بعد سے کم ترین تھی) سے دوبارہ سنبھلا۔ تاہم یہ بیانات لیبر مارکیٹ میں نمایاں کمزوری کے بعد مارکیٹ کی توقعات کے مطابق مزید نرمی کی عکاسی نہیں کرتے تھے۔


Comments
Comments are closed.