سولر کا پھیلاؤ گرڈ کیلئے کتنا بڑا چیلنج؟
بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر صارفین کی بڑی تعداد اپنے بل کم کرنے کے لیے چھت پر نصب شمسی توانائی (روٕف ٹاپ سولر) کی طرف جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں نیٹ میٹرنگ کنکشنز میں اضافہ ہوا ہے۔
اگرچہ نیٹ میٹرنگ کنکشنز میں اضافہ صارفین کو بااختیار بناتا ہے، مگر یہ پاکستان کے روایتی بجلی تقسیم کے نظام کے لیے ایک نیا چیلنج بھی ہے، کیونکہ یہ نظام اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ بجلی صرف ایک سمت میں بہتی رہے یعنی گرڈ سے صارف کی طرف۔
نیٹ میٹرنگ کے موجودہ ٹیرف پیکیج کے تحت 5 سے 25 کلو واٹ ( کےڈبلیو) سولر فوٹو وولٹائیک ( پی وی) انسٹالیشنز صارفین کو محض 2 سے 4 سال کی پرکشش ادائیگی کی مدت فراہم کرتی ہیں۔ یہی سادہ اقتصادی منطق ہے جس کی وجہ سے پوری پوری بستیاں چھتوں پر سولر نظام کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ افراد جو پہلے صرف صارف تھے اب پروسومرز بن گئے ہیں، یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو بجلی کے اسعمال کے ساتھ پیداوار بھی کرتے ہیں۔
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب پروسومرز زیادہ بجلی پیدا کرنے لگتے ہیں اور گرڈ سے بجلی لینا بند کر دیتے ہیں جبکہ روایتی بجلی گرڈ میں بجلی کا بہاؤ صرف ایک سمت میں ہوتا ہے،بجلی بجلی گھروں میں پیدا ہوتی ہے، ٹرانسمیشن نیٹ ورک کے ذریعے منتقل ہوتی ہے، مقامی گرڈ سے جڑتی ہے اور پھر تقسیم کار نیٹ ورک کے ذریعے آخرکار صارفین تک پہنچتی ہے۔
جب پروسومرز زیادہ بجلی پیدا کرتے ہیں تو یہ ریورس پاور فلو کی صورت اختیار کرتا ہے۔ گھریلو آلات کی طرح بجلی کے قومی گرڈ کو کسی سوئچ کے ذریعے بند نہیں کیا جا سکتا۔ جب پروسومرز بجلی کا استعمال بند کر دیتے ہیں اور اضافی شمسی توانائی برآمد کرنا شروع کرتے ہیں تو گرڈ کو لازمی طور پر اسے جذب کرنا پڑتا ہے، چاہے اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔
جب شمسی توانائی گرڈ میں واپس جاتی ہے تو یہ ریورس پاور فلو ٹرانسفارمر کے کواڈرینٹ لوڈنگ ماڈل کے تیسرے حصے میں ظاہر ہوتا ہے، جہاں ایک ہی وقت میں فعال اور غیر فعال دونوں طرح کی بجلی گرڈ میں بہنے لگتی ہے۔ اس سے ٹرانسفارمر کے کور پر ضرورت سے زیادہ مقناطیسی دباؤ (اوور ایکسائیٹیشن) پڑتا ہے جس سے کور سیچوریشن (سیر ہونا) واقع ہوتی ہے۔ نتیجتاً کور کے نقصانات بڑھ جاتے ہیں، حرارتی دباؤ (تھرمل اسٹریس) پیدا ہوتا ہے اور انسولیشن جلدی خراب ہو جاتی ہے، جس سے تقسیم کار ٹرانسفارمر کی میعاد نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔
یہ ضرورت سے زیادہ ایکسائیٹیشن وولٹیج کے اتار چڑھاؤ اور ہارمونکس پیدا کرنے کا بھی باعث بنتی ہے، جو نیٹ ورک میں بجلی کے معیار پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ وولٹیج کے ان اتار چڑھاؤ کو دور کرنے کے لیے یوٹیلیٹیز جیسے کہ کے الیکٹرک ٹرانسفارمر پر ٹَیپ پوزیشن تبدیل کر سکتی ہیں ،تاکہ وولٹیج کو مستحکم کیا جا سکے۔
تاہم اگر شمسی توانائی کی پیداوار بدل جائے تو وولٹیج کی سطح بھی دوبارہ بدل جائے گی اور اس کے نتیجے میں ٹَیپ پوزیشن دوبارہ تبدیل کرنا پڑے گی۔ ٹرانسفارمر پر ٹَیپنگ کی بار بار تبدیلی مکینیکل خطرے کو تیز کرتی ہے، جس کے نتیجے میں دیکھ بھال کے اخراجات اور ناکامی کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
یوٹیلیٹیز کو ایک کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے، جو محض دستی ٹَیپ تبدیلی سے آگے ہو، تاکہ ریورس پاور فلو کے منفی اثرات کو درست کیا جا سکے۔ یوٹیلیٹیز کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ صارفین ایسے اسمارٹ انورٹرز نصب کریں جن میں خودکار ”وولٹ-وار کنٹرول“ موجود ہو، یہ ایک ایسا فنکشن ہے جو مقامی وولٹیج کی صورتحال کے مطابق انورٹر کے ری ایکٹو پاور آؤٹ پٹ کو ایڈجسٹ کرتا ہے۔
اگرچہ یہ خصوصیت ریورس پاور فلو کو مکمل طور پر روک نہیں سکتی، لیکن یہ وولٹیج کو مستحکم کرنے اور ٹرانسفارمرز ودیگر آلات پر دباؤ کم کرنے میں مددگار ہے۔ اس کے ساتھ ہی یوٹیلیٹیز کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ نصب کیے گئے انورٹرز 1547-2018 آئی ای ای ای کے مطابق ہوں، جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ انورٹرز میں ایسی خصوصیات موجود ہوں جو گرڈ کے استحکام میں مدد کریں۔
1547-2018 آئی ای ای ای بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیار ہے جو تقسیم شدہ توانائی کے ذرائع ( ڈی ای آر ایس) جیسے چھت پر نصب سولر پینلز، بیٹری اسٹوریج، ہوائی توانائی کے نظام وغیرہ کو بجلی کے گرڈ سے جوڑنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
اسی طرح اے ای ڈی بی سے منظور شدہ انسٹالرز کو یہ مہارت ثابت کرنی چاہیے کہ وہ ان فیچرز کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں اور انورٹر کو اسی کے مطابق کیلِبریٹ کر سکتے ہیں۔ طویل مدتی گرڈ کی مضبوطی کی حکمتِ عملی کے لیے یوٹیلیٹیز کو چاہیے کہ وہ تقسیم شدہ توانائی کے ذرائع کو ایڈوانسڈ ڈسٹری بیوشن مینجمنٹ سسٹم ( اے ڈی ایم ایس) کے ساتھ یکجا کرنے کی منصوبہ بندی کریں۔
یوٹیلیٹیز کے لیے ایک اور آپشن یہ بھی ہے کہ وہ تقسیم کار ٹرانسفارمرز کے لو ٹینشن (Low-Tension) سائیڈ پر مقامی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز( بی ای ایس ای ) نصب کریں۔ بیٹریاں دن کے وقت شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو جذب کر سکتی ہیں اور رات کے وقت صارفین کو دوبارہ فراہم کر سکتی ہیں۔
اگر بی ایس ایس کو لو ٹینشن سائیڈ پر درست پیمائش کے ساتھ نصب کیا جائے تو یہ ریورس پاور فلو کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے اور یوٹیلیٹیز کو مہنگے نیٹ ورک اپ گریڈ سے بچا سکتا ہے۔ آسٹریلیا میں یوٹیلیٹیز پہلے ہی پول ماؤنٹڈ بیٹریز آزما رہی ہیں ،تاکہ نیٹ ورک کی پائیداری اور بھروسے کو بڑھایا جا سکےاور بغیر اپ گریڈ کیے موجودہ گرڈ کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
آسٹریلیا کی کچھ یوٹیلیٹیز پروسومرز پر ایک جرمانہ بھی عائد کرتی ہیں جسے سن ٹیکس کہا جاتا ہے،جب وہ شمسی توانائی کی پیداوار کے زیادہ ہونے کے اوقات میں بجلی گرڈ میں برآمد کرتے ہیں۔ یہ پالیسی نیٹ ورک پر دباؤ کم کرنے کے لیے وضع کی گئی تھی۔
2015 میں ہوائی پبلک یوٹیلیٹیز کمیشن نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت ریاست میں تمام نئے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ ختم کر دی گئی۔ یہ فیصلہ ہوائی الیکٹرک کمپنی ( ایچ ای سی او) کے خدشات کی بنیاد پر کیا گیا تھا، جنہیں عارضی زیادہ وولٹیج اور ریورس پاور فلو کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے گرڈ کی پائیداری پر تشویش تھی،اس کے نتیجے میں ہی کو (HECO) نے متبادل پروگراموں کی طرف منتقلی کی،جو نیٹ میٹرنگ کے مقابلے میں کنٹرول شدہ اور محدود برآمدی آپشنز فراہم کرتے ہیں۔
2023 میں کیلیفورنیا نے ایک نیا نیٹ بلنگ ٹیرف اپنایا، جسے عام طور پر 3.0 این ای ایم کہا جاتا ہے، تاکہ پروسومرز کی جانب سے گرڈ میں برآمد کی جانے والی بجلی کی اصل قدر کو زیادہ درست طور پر ظاہر کیا جا سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکمل ریٹیل پرائس ادا کرنے کے بجائے اب یوٹیلیٹیز پروسومرز کو بجلی کی اس وقت کی حقیقی قدر کی بنیاد پر رقم ادا کریں گی جب وہ گرڈ میں برآمد کی جائے گی۔
پاکستان میں روف ٹاپ سولر اب ایک مستقل حقیقت بن چکا ہے،اب یہ یوٹیلیٹیز اور ریگولیٹری ادارے پر منحصر ہے کہ وہ اس توازن کو اپنے حق میں کس طرح ڈھالتے ہیں۔ ریورس پاور فلو کی وجہ سے نیٹ ورک کو پہنچنے والے نقصانات اب محض ممکنہ خطرہ نہیں رہے بلکہ زمینی حقیقت بن چکے ہیں۔ یوٹیلیٹیز کو چاہیے کہ وہ ٹیرف ماڈلز سے آگے بڑھ کر زیادہ متحرک اور اسمارٹ طریقے اپنائیں۔
ایسے اقدامات نہ صرف بجلی کے ڈھانچے کو محفوظ بنائیں گے بلکہ یہ بھی یقینی بنائیں گے کہ شمسی توانائی کی ترقی پائیدار رہے۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025
The writer works in the power sector and has an extensive expertise on studying grid technologies


Comments
Comments are closed.