وزیراعظم شہباز شریف آج (منگل) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں خطاب کریں گے، کشمیر اور فلسطین پر پاکستان کا مؤقف اجاگر کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف پیر کی شام نیویارک پہنچے جہاں ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سمیت دیگر وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم متعدد اہم اور اعلیٰ سطح تقریبات میں شریک ہوں گے جن میں سلامتی کونسل کے اجلاس، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (جی ڈی آئی) کی اعلیٰ سطحی میٹنگ اور ماحولیاتی تبدیلی پر خصوصی اجلاس شامل ہیں۔
وزیراعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور منتخب اسلامی رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم ملاقات بھی متوقع ہے جس میں علاقائی و بین الاقوامی امن و سلامتی کے امور پر گفتگو ہوگی۔
وزیراعظم جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے پیش کریں گے اور توقع ہے کہ وہ بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں طویل قبضے اور حقِ خود ارادیت کی محرومی کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے دنیا سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کریں گے۔ وہ خاص طور پر غزہ کے بحران پر روشنی ڈالیں گے اور فلسطینی عوام کی مشکلات ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرنے پر زور دیں گے۔
وزیراعظم اپنے خطاب میں علاقائی سلامتی اور عالمی چیلنجز جیسے ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی، اسلاموفوبیا اور پائیدار ترقی پر بھی پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
اسحاق ڈار کی شامی صدر سے ملاقات
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے شامی صدر سے ملاقات کی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ڈار نے کہا کہ انہوں نے شامی عوام کے ساتھ پاکستان کی بھرپور یکجہتی کا اعادہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے تاریخی دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ ملاقات میں تجارت، انسانی وسائل اور ترقی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔


Comments
Comments are closed.