آئندہ 10 سال میں اے آئی بڑی بیماریوں کی تشخیص و خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گی، ماہرین
پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت نے صحت کے شعبے کو موثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو تیزی سے اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بیماریوں کی تشخیص، ادویات کی دریافت اور تجویز، اور مضر ضمنی اثرات کو کم سے کم کرنا ہے۔
ادویات بنانے والے شعبے نے پیر کے روز ایک سرکاری ورکشاپ میں جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ ورکشاپ پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے زیر اہتمام بدھ کو منعقد ہونے والے آٹھویں فارما سمٹ سے قبل منعقد کی گئی، جس کا عنوان ہے: ”فارما کا مستقبل: ادویات کی دریافت اور شخصی علاج کے لیے مصنوعی ذہانت کا انضمام“۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت، جنریٹیو اے آئی اور انقلابی ٹیکنالوجی کے ماہر، بیسٹ سیلر مصنف، اور ٹیک ( ٹی ای سی) کینیڈا 2024 کے سال کے مقرر جم ہیرس نے کہا کہ ”گوگل ڈیپ مائنڈ کے بانی ڈیمِس ہسابِس، جنہیں 2024 میں کیمیا کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر نوبیل انعام ملا ہے، نے کہا ہے کہ آئندہ دس برسوں میں تمام بڑی بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ یہ ایک انقلابی پیش رفت ہے، جو دوا ساز صنعت کو یکسر بدل کر رکھ دے گی۔“
گوگل ڈیپ مائنڈ کی جانب سے تیار کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈل الفا فولڈ (AlphaFold) کو دوا سازی کے شعبے میں استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ایسے مرکبات دریافت کیے جا سکیں جو کینسر کو اس کی ابتدائی ترین سطح، یعنی اسٹیج زیرو، پر ہی روک سکیں۔
جم ہیرس نے بتایا کہ ماضی میں جس پروٹین کو سمجھنے اور نقشہ سازی کے لیے ایک پی ایچ ڈی طالبعلم کو پانچ سال درکار ہوتے تھے، الفا فولڈ نے وہی کام محض دو سیکنڈ میں کر دکھایا۔ ان کے بقول، ”یہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیت میں ارب گنا اضافہ ظاہر کرتا ہے، جو واقعی حیرت انگیز ہے۔“
انہوں نے مزید بتایا کہ دنیا نے ایک جدید پِل کیم ( PillCam) ایجاد کی ہے، جو دنیا کے سب سے چھوٹے میڈیکل کیمروں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک نگلنے کے قابل کیپسول نما آلہ ہے، جس میں دو کیمرے اور وائی فائی ٹرانسمیٹرز نصب ہیں۔ یہ آلہ مریض کے معدے اور بالخصوص چھوٹی آنت کے اندرونی حصوں کی تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جنہیں بعد ازاں اے آئی کی مدد سے تجزیہ کر کے قبل از کینسر پولپس ( پری کینسرس پولپس) کی موجودگی کا پتا لگایا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح اے آئی خون کے ٹیسٹ کے ذریعے کینسر کے ٹیومرز اور دیگر بیماریوں کی تشخیص میں استعمال ہو رہی ہے، ایک ایسا عمل جو طب کے شعبے میں نئی راہیں کھول رہا ہے۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے معروف عالمی ماہرِ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی انقلابی تبدیلیوں کے داعی جم ہیرس نے مزید بتایا کہ کس طرح اے آئی مریضوں کو ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے لیے طویل انتظار سے نجات دلا رہی ہے۔ ”جہاں ماضی میں اپائنٹمنٹ کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا، وہاں اب صرف چند دنوں میں ورچوئل کنسلٹیشن ممکن ہو چکی ہے،زوم( Zoom)، ٹیلی میڈیسن اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے“، انہوں نے کہا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں چند مقامی دوا ساز کمپنیاں پہلے ہی مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر چکی ہیں تاکہ دوا سازی کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے اور دواؤں کے ممکنہ منفی اثرات کی بروقت تشخیص کی جا سکے۔ یہ کمپنیاں DiBot جیسے اے آئی چیٹ بوٹس کے ذریعے مریضوں سے رابطہ قائم کر رہی ہیں، ٹیلی میڈیسن کا استعمال کر رہی ہیں اور براہِ راست صارفین تک رسائی ( ڈائریکٹ ٹو کنزیومر یعنی ڈی ٹی سی) ماڈل کے تحت اپنی ای کامرس پلیٹ فارم بھی متعارف کرا چکی ہیں۔
بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے جم ہیرس نے کہا کہ ”اے آئی انسانیت کی جانب سے تخلیق کردہ سب سے طاقتور ٹول ہے۔ یہ واقعی ہر کمپنی اور ہر شعبے کو تبدیل کر رہا ہے۔“
انہوں نے بتایا کہ اے آئی نہ صرف دوا کی دریافت کے عمل کو تیز کر سکتی ہے بلکہ اداروں کے اندر دہرائے جانے والے، سست اور غیر مؤثر طریقہ کار کو بھی مؤثر اور تیز تر بنایا جا سکتا ہے۔
”یہ مریضوں کو یہ سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے کہ ان کی بیماری اصل میں کیا ہے۔ کینیڈا میں ہم نے ایسے کئی کیسز میں اے آئی کا استعمال کیا جہاں مختلف ڈاکٹرز اور اسپیشلسٹس کی موجودگی میں بھی تشخیص ممکن نہیں ہو پا رہی تھی۔ ایک نمایاں مثال دواؤں کے منفی اثرات کی ہے، جب ایک ہی مریض کو مختلف ماہرین کی جانب سے مختلف ادویات تجویز کی جاتی ہیں اور کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ مریض پہلے سے کیا کچھ استعمال کر رہا ہے۔ اے آئی اس مسئلے کا حل فراہم کر سکتی ہے۔“
ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کو دوا سازی، مارکیٹنگ اور دواؤں کی برآمدات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی دوا ساز ادارے اپنی عالمی رسائی بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے پہلے ہی کوشاں ہیں۔
تاہم ورکشاپ کے شرکاء نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اے آئی کی موثر کارکردگی کے لیے ڈیٹا کی دستیابی بنیادی شرط ہے، جب کہ پاکستان میں مریضوں، بیماریوں اور دیگر متعلقہ امور کا کوئی قومی سطح کا مربوط ڈیٹا بیس موجود نہیں، جو ایک سنگین رکاوٹ ہے۔
شرکاء نے یہ بھی کہا کہ ملک میں اے آئی کا استعمال خود تشخیصی یا خود علاج (سیلف میڈیکشن) کے رجحان کو بھی فروغ دے رہا ہے، جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ ایک ہی علامت کے لیے مختلف حالات میں مختلف ادویات تجویز کی جاتی ہیں، اور غلط استعمال سے نقصان ہو سکتا ہے۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے چیئرمین توقیر الحق نے کہا کہ مصنوعی ذہانت فارما انڈسٹری میں اعلیٰ کارکردگی، پیداواری صلاحیت، مارکیٹنگ اور برآمدات میں نمایاں بہتری کا ذریعہ بنے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ورکشاپ کے شرکاء نے فارما انڈسٹری میں اے آئی کے استعمال سے متعلق مثبت فیڈبیک دیا ہے۔


Comments
Comments are closed.