امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ٹک ٹاک سے متعلق ڈیل کی منظوری دینے والے ہیں، جس کے تحت یہ معاہدہ قانونی تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے ایک سینئر وائٹ ہاؤس عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ فیصلہ کئی ماہ سے جاری امریکا چین مذاکرات کے بعد سامنے آرہا ہے، جنہوں نے وسیع تر تجارتی بات چیت کو بھی متاثر کیاہے۔ معاہدہ طے پا جانے کے بعد مقبول شارٹ ویڈیو ایپ ٹک ٹاک کی امریکا میں سرگرمیاں جاری رکھنے کی راہ ہموار ہوگی۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان اس ڈیل پر پیش رفت ہوئی ہے، جس کے تحت ٹک ٹاک کے امریکی اثاثے چین کی بائٹ ڈانس سے امریکی مالکان کے حوالے کر دیے جائیں گے۔
رائٹرز کے مطابق معاہدے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ ٹک ٹاک کا الگورتھم امریکا میں بائٹ ڈانس کے اثر سے الگ کر کے محفوظ، دوبارہ تربیت یافتہ اور امریکی کنٹرول میں چلایا جائے گا۔
اتوار کو صدر ٹرمپ نے بتایا کہ میڈیا ٹائیکون لاکلان مرڈوک اور کاروباری رہنما لیری ایلیسن و مائیکل ڈیل بطور امریکی سرمایہ کار اس مجوزہ ڈیل میں شامل ہوں گے۔
متوقع معاہدے کے مطابق ٹک ٹاک کے امریکی اثاثوں کی اکثریتی ملکیت امریکی سرمایہ کاروں کے پاس ہوگی اور اس کا انتظام ایک ایسے بورڈ کے ذریعے ہوگا جس میں قومی سلامتی اور سائبر سیکیورٹی کے ماہرین شامل ہوں گے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق موجودہ سرمایہ کاروں کے ساتھ نئی امریکی کمپنیوں کا گروپ، جس میں پرائیویٹ ایکویٹی فرم سلور لیک اور اوریکل شامل ہیں، مجموعی طور پر تقریباً 80 فیصد حصص کے مالک ہوں گے۔
رائٹرز کے مطابق معاہدے میں اس بات کی شرط بھی رکھی گئی ہے کہ امریکی صارفین کا تمام ڈیٹا امریکا میں موجود اوریکل کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر پر محفوظ کیا جائے گا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق نئی امریکی کمپنی کے تحت ٹک ٹاک چلانے کے لیے بنائے گئے ادارے میں سلور لیک اور اوریکل جیسے نئے سرمایہ کار تقریباً نصف حصہ دار ہوں گے جبکہ موجودہ سرمایہ کاروں میں ٹریڈنگ فرم سوسکوہانا انٹرنیشنل کے پاس تقریباً 30 فیصد حصہ ہوگا۔
اس معاہدے کے نتیجے میں ٹک ٹاک کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کا شیئر 20 فیصد سے بھی کم رہ جائے گا۔


Comments
Comments are closed.