وزیرِاعظم شہباز شریف 22 ستمبر سے نیویارک میں شروع ہونے والے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے۔
دفترِ خارجہ نے اتوار کو بتایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف، ڈپٹی وزیراعظم اور وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، کابینہ کے وزرا اور اعلیٰ حکام کے ہمراہ، عالمی رہنماؤں کے سالانہ اجتماع کے اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کریں گے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں وزیرِاعظم کی توقع ہے کہ وہ عالمی برادری سے اپیل کریں گے کہ بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں طویل قبضے اور حقِ خودارادیت سے محرومی کے مسئلے کو حل کیا جائے۔ وہ خاص طور پر غزہ کے بحران پر توجہ مرکوز کریں گے اور فلسطینی عوام کی تکالیف ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات پر زور دیں گے۔
وزیرِاعظم پاکستان کا مؤقف خطے کی سلامتی اور عالمی چیلنجز پر بھی پیش کریں گے، جن میں ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی، اسلاموفوبیا اور پائیدار ترقی شامل ہیں۔
دفترِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا اس دوران وزیرِاعظم شہباز اعلیٰ سطح تقریبات میں شرکت کریں گے، جن میں سلامتی کونسل کے اجلاس، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (جی ڈی آئی) اور ماحولیاتی عمل پر خصوصی اجلاس شامل ہیں۔
وہ منتخب اسلامی رہنماؤں کے ایک اجلاس میں بھی شریک ہوں گے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہوں گے تاکہ خطے اور دنیا میں امن و سلامتی پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
وزیرِاعظم مختلف عالمی رہنماؤں اور اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے اور اس بات کو اجاگر کریں گے کہ پاکستان بطور سلامتی کونسل کے موجودہ رکن، چارٹرِ اقوامِ متحدہ کی پاسداری، تنازعات کی روک تھام، امن کے فروغ اور خوشحالی کے لیے رکن ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی جنرل اسمبلی میں شرکت پاکستان کے کثیرالجہتی تعاون کے پختہ عزم اور امن و ترقی میں دیرینہ کردار کو اجاگر کرے گی۔


Comments
Comments are closed.