BR100 Decreased By (-0.26%)
BR30 Decreased By (-0.53%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد امریکی صدر کے دوسرے سرکاری دورے کو ملکی سیاسی مسائل کے بجائے عالمی امور پر مرکوز رکھنا تھا۔

ایک دن کی شاندار تقریبات، جن میں ٹرمپ بادشاہ چارلس کے ساتھ بگھی میں سوار ہوئے اور شاہی عشائیے میں شریک ہوئے، کے بعد امریکی صدر اور اسٹارمر نے 150 ارب پاؤنڈ (205 ارب ڈالر) کے امریکی سرمایہ کاری پیکج کا اعلان کیا۔

یہ معاہدے ٹیکنالوجی، توانائی اور لائف سائنسز جیسے شعبوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک کے خصوصی تعلقات کو نئی جان بخشتے ہیں۔ اسٹارمر نے جنوری میں ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ان تعلقات کو مستحکم کرنے کی خاصی کوشش کی ہے۔

یہ ملاقات خطرات سے خالی نہ تھی۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، جہاں صحافیوں نے آنجہانی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق سوالات بھی اٹھائے۔ اسٹارمر کو گزشتہ ہفتے پیٹر مینڈلسن کو امریکہ میں سفیر کے عہدے سے ہٹانا پڑا تھا کیونکہ ان کے ایپسٹین سے تعلقات سامنے آئے تھے، جبکہ ٹرمپ کے تعلقات پر بھی سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

ونڈسر کاسل میں چارلس کے ہمراہ بات چیت کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنے دورے کو زندگی کی سب سے بڑی عزتوں میں سے ایک قرار دیا۔ اسٹارمر نے کوشش کی کہ یہ مثبت فضا برقرار رہے اور ٹرمپ برطانیہ کے آن لائن سیفٹی قوانین یا اسرائیل کے حساس معاملے پر بات نہ کریں۔

اسٹارمر نے معاہدوں کو اجاگر کیا جن میں مائیکروسافٹ، اینوڈیا، گوگل اور اوپن اے آئی جیسی کمپنیوں کی 31 ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری شامل ہے،تاہم اسٹیل اور ایلومینیم ٹیرف میں مزید کمی کا امکان نہ بن سکا۔

چیـکرز کی رہائش گاہ پر اسٹارمر نے ٹرمپ سے یوکرین جنگ میں روس کے خلاف سخت موقف اپنانے پر زور دیا۔ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں روس کو جارح کہا، مگر ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ یورپ روسی تیل کی خرید بند کرے۔

اسرائیل کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ اسٹارمر پر دباؤ تھا کہ وہ غزہ پر حملوں کا مسئلہ اٹھائیں۔ ٹرمپ نے اگرچہ بعض اسرائیلی کارروائیوں پر ناپسندیدگی ظاہر کی، مگر مجموعی طور پر وہ وزیرِاعظم نیتن یاہو کے حامی رہے ہیں۔

تجزیہ کار ایوی ایسپنل کے مطابق یوکرین اور اسرائیل کے موضوعات مذاکرات میں کشیدگی کا باعث بنےمگر بعض لمحات خاصے ناخوشگوار بھی رہے۔

Comments

Comments are closed.