پاکستان کی مرکزی حکومت کے قرضے مالی سال 2025-26 کے پہلے ماہ میں بڑھ کر 78.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے، جو اس کے مسلسل بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مجموعی قرضہ، جس میں ملکی اور بیرونی دونوں قرضے شامل ہیں، جولائی 2025 میں 350 ارب روپے بڑھ گیا۔ اس اضافے کے بعد ملک کا کُل قرضہ 77.888 کھرب روپے (جون 2025) سے بڑھ کر 78.238 کھرب روپے ہو گیا۔ سالانہ بنیادوں پر مرکزی حکومت کا قرضہ 12.4 فیصد بڑھا، جو جولائی 2024 میں 69.623 کھرب روپے تھا۔
مزید تفصیل کے مطابق، ملکی قرضے میں نمایاں اضافہ ہوا، جو سالانہ بنیادوں پر 15.2 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر ایک فیصد بڑھ کر جولائی 2025 میں 54.9 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ جون 2025 میں یہ 54.471 کھرب روپے اور جولائی 2024 میں 47.716 کھرب روپے تھا۔
اس کے برعکس، بیرونی قرضہ سست رفتار سے بڑھا، جو سالانہ بنیادوں پر 6.1 فیصد زیادہ رہا، لیکن ماہانہ بنیادوں پر 0.7 فیصد کم ہو کر جولائی 2025 کے اختتام تک 23.3 کھرب روپے تک محدود رہا۔
بیرونی قرضے میں یہ کمی زیادہ تر شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہے، جو غیر ملکی کرنسی میں لیے گئے قرضوں کی مقامی کرنسی کی مالیت کو کم کر دیتا ہے۔ جولائی 2025 میں امریکی ڈالر کا ویٹڈ ایوریج کسٹمر ایکسچینج ریٹ 282.8537 روپے رہا، جبکہ جون 2025 میں یہ 283.7493 روپے تھا، جس کی بنیاد پر بیرونی قرضے کا حساب لگایا گیا۔
اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مالی سال (مالی سال25) میں خاطر خواہ منافع حاصل کیا اور اس منافع کا بڑا حصہ یعنی 2.4 کھرب روپے وفاقی حکومت کو منتقل کیا۔ اسٹیٹ بینک کے منافع کی وصولی کے بعد بجٹ خسارے کے لیے بینکنگ سسٹم سے کُل قرض لینے کی ضرورت نمایاں طور پر کم ہو گئی، جبکہ بینکوں کی نجی شعبے کو قرض دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔
مالی سال 2025-26 میں وفاقی حکومت مزید مالی نظم و ضبط کو ہدف بنا رہی ہے اور جی ڈی پی کے 2.4 فیصد کے برابر پرائمری سرپلس حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس ہدف کا حصول ریونیو کی وصولی کی بھرپور کوششوں اور اخراجات کے منطقی تعین پر منحصر ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.