انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 281.50 روپے پر جاپہنچا۔
یاد رہے کہ منگل کو مقامی کرنسی 281.51 روپے پر بند ہوئی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر بدھ کو امریکی ڈالر دباؤ میں رہا، حصص کی قدر میں معمولی کمی دیکھی گئی جبکہ سونا نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، کیونکہ عالمی منڈیاں فیڈرل ریزرو کی جانب سے متوقع شرح سود میں کمی اور مستقبل میں نرمی کے حوالے سے اشاروں کی منتظر رہیں۔
یورو گزشتہ سیشن میں فیڈ کی جانب سے شرح سود میں نرمی کے امکانات کے باعث ڈالر کے مقابلے میں 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد روسی ریفائنریوں اور بندرگاہوں پر دباؤ کے باعث تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
فیڈ سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ اپنے مالیاتی پالیسی اجلاس کے اختتام پر بنیادی شرح سود میں 0.25 فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 4.00 تا 4.25 فیصد کی حد میں لے آئے گا۔ شرح سود کے فیصلے کے بعد اصل توجہ امریکی مالیاتی پالیسی کے آئندہ منظرنامے پر چیئرمین جیروم پاول کے تبصروں پر مرکوز ہوگی۔
ڈالر انڈیکس منگل کو 0.7 فیصد کمی کے بعد (جو جولائی کے اوائل کے بعد سب سے کم سطح تھی) بدھ کو معمولی بہتری سے 0.1 فیصد بڑھ کر 96.689 پر آگیا۔
یورپی سنگل کرنسی 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1857 ڈالر پر آگئی، حالانکہ منگل کو یہ 1.1867 ڈالر تک پہنچی تھی جو ستمبر 2021 کے بعد بلند ترین سطح تھی۔
امریکی ڈالر گزشتہ سیشن میں 0.6 فیصد کمی کے بعد بدھ کو جاپانی کرنسی کے مقابلے میں معمولی ردوبدل کے ساتھ 146.52 ین پر ٹریڈ ہورہا تھا۔


Comments
Comments are closed.