BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
اداریہ

ڈیٹا سیکیورٹی کی ناکامیاں

شائع September 11, 2025 اپ ڈیٹ September 11, 2025 12:09pm

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستانی شہریوں نے ابھی یہ دریافت کیا ہے کہ ان کا ذاتی ڈیٹا آن لائن فروخت ہو رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ برسوں سے ایسا ہوتا رہا اور اسے روکا نہیں گیا۔ موبائل سم ریکارڈز، شناختی کارڈ کی تصاویر، کال لاگز اور حتیٰ کہ سفری تاریخیں تک صرف 500 روپے میں ہیکرز کے ہاتھوں فروخت ہو رہی ہیں، جس سے شہری، سرکاری افسر اور یہاں تک کہ وزراء بھی ہراسانی، فراڈ اور بلیک میلنگ کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ غیر قانونی کاروبار سب کے سامنے کھلے عام جاری ہے، باوجود اس کے کہ بار بار کارروائی کے وعدے کیے گئے، محض ٹیکنالوجی کی کمزوری نہیں بلکہ حکمرانی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

ہر کوئی چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ڈیٹا پروٹیکشن، ڈیجیٹلائزیشن کے لیے بنیادی شرط ہے۔ ای-گورنمنٹ سے متعلق ہر تقریر، فِن ٹیک کا ہر منصوبہ، اور ڈیجیٹل شمولیت کا ہر دعویٰ اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ محفوظ ڈیٹا بیس جدید معیشت کی بنیاد ہیں۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ وہی معلومات جو شناخت، مالیات اور مواصلات کی اساس ہیں، کھلے عام ایسی ویب سائٹس پر فروخت ہورہی ہیں جنہیں محض گوگل سرچ کے ذریعے تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اگر جدید دنیا کی بنیاد ڈیٹا پر رکھی گئی ہے تو پاکستان نے یہ ”چابی“ گاڑی کے اگنیشن میں چھوڑ دی ہے، تاکہ جو چاہے اسے لے اڑے۔

وزارتِ داخلہ نے انکوائری کا حکم دے دیا ہے، 14 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو مجرموں کی نشاندہی کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ مگر پاکستان میں یہ سب پہلے بھی ہوچکا ہے۔ کمیٹیاں رپورٹیں تیار کرتی ہیں، ذمہ داریاں تقسیم ہوکر بے اثر ہوجاتی ہیں، اور جیسے ہی اگلا ڈیٹا لیک سامنے آتا ہے، یہی چکر دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔ عوام کے حصے میں محض تسلی آمیز بیانات آتے ہیں، جبکہ ان کا ذاتی ڈیٹا مجرموں، فراڈیوں اور مخالف عناصر کے درمیان گردش کرتا رہتا ہے۔

یہ کوئی نظریاتی یا دور کی بات نہیں۔ جب شناختی ریکارڈ چوری ہو جائیں تو شہری حقیقی خطرات سے دوچار ہو جاتے ہیں: جعلی قرضے، بھتہ خوری کی دھمکیاں، ذاتی معلومات کے ذریعے بلیک میلنگ، حتیٰ کہ جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا اندیشہ۔ اعلیٰ حکام اور وزرا کے لیے سفری ریکارڈ اور فون کالز کا افشا ہونا براہِ راست قومی سلامتی کے خطرات پیدا کرتا ہے۔ عام شہریوں کے لیے یہ اذیت، ہراسانی اور استحصال کی شکل اختیار کرتا ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے ان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔ ایک ایسی حکومت جو اپنے شہریوں کے ڈیٹا کا تحفظ نہیں کر سکتی، وہ ان کی جان و مال کے تحفظ کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتی۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اس ہنگامے کے بیچوں بیچ کھڑی ہے۔ طویل عرصے سے اس کا دعویٰ رہا ہے کہ وہ ایسی ویب سائٹس کو بند کرتی ہے، لیکن درجنوں پلیٹ فارم بدستور حساس معلومات کی خریدو فروخت میں مصروف ہیں اور کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔ یہ یا تو سنگین نااہلی ہے یا پھر دانستہ غفلت۔ ریگولیٹری ادارے اس لیے قائم کیے جاتے ہیں کہ خطرات کو پہلے سے بھانپیں، نہ کہ نقصان ہونے کے بعد وضاحتیں پیش کریں۔ اگر پی ٹی اے ڈیٹا پرائیویسی کے بنیادی نفاذ کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی تو اس کے مینڈیٹ اور قیادت کا فوری طور پر جائزہ لینا ناگزیر ہے۔

بالآخر پی ٹی اے نے اس واقعے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایسی ویب سائٹس کو بلاک کردیا ہے اور اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ ڈیٹا لیکس ٹیلی کام کمپنیوں سے ہوئی ہیں، کیونکہ ٹیلی کام سیکٹر کے پاس صارفین کی خاندانی تفصیلات، سفری معلومات وغیرہ موجود نہیں ہوتیں۔ پی ٹی اے کی رائے میں افشا شدہ ڈیٹا بظاہر مختلف بیرونی ذرائع سے جمع کیا گیا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے اسے نظام کی مکمل ناکامی قرار دیا ہے اور وہ بالکل درست ہیں۔ کمزوری کسی ایک سرور یا ایک وزارت میں نہیں بلکہ پوری حکومتی ڈھانچے میں پھیلی ہوئی ہے۔ ڈیٹا بیسز انکرپشن کے بغیر بنائے جاتے ہیں، ایکسیس لاگز محفوظ نہیں کیے جاتے، کنٹریکٹرز کی نگرانی نہیں کی جاتی اور اداروں کے درمیان رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے ماحول میں ڈیٹا لیک ہونا ناگزیر اور احتساب ناممکن ہے۔ اصلاح صرف ایک انکوائری سے نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے قانونی، ادارہ جاتی اور تکنیکی سطح پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں درکار ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ قابلِ عمل ڈیٹا پروٹیکشن قوانین ہوں جن میں حقیقی سزائیں شامل ہوں، ایسی آزادانہ نگرانی ہو جسے نظرانداز نہ کیا جا سکے اور تمام اداروں کے لیے، جو ذاتی ڈیٹا ہینڈل کرتے ہیں، لازمی آڈٹ کی شرط ہو۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ڈیٹا لیک ہونے کی صورت میں شفاف انداز میں عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ شہری جان سکیں کہ ان کی معلومات کب متاثر ہوئی ہیں اور وہ بروقت احتیاطی اقدامات کر سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سائبر سیکیورٹی کے ڈھانچے میں اتنی ہی سنجیدگی سے سرمایہ کاری کی جائے جتنی فزیکل سلامتی پر کی جاتی ہے۔ سب سے بڑھ کر اس کا مطلب یہ ہے کہ ضابطہ جاتی ناکامیوں کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جائے، نہ کہ انہیں بیوروکریٹک کمیٹیوں کے پیچھے چھپایا جائے۔

پاکستان کیلئے ڈیجیٹائزیشن کا راستہ کوئی انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ہے۔ بینکاری، تجارت، تعلیم اور صحت کے شعبے پہلے ہی فزیکل سے آن لائن پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہورہے ہیں، اگر محفوظ ڈیٹا پالیسیوں کو یقینی نہ بنایا گیا تو ہر منصوبہ ہی آغاز میں غیر مؤثر ہوجائے گا۔

المیہ یہ ہے کہ حکومت ڈیجیٹائزیشن کو جدیدیت، سرمایہ کاری کے فروغ اور خدمات کے دائرہ کار کو بڑھانے کے طریقے کے طور پر فروغ دیتی ہے، مگر ڈیٹا پروٹیکشن کی بنیادوں کو نظرانداز کر کے انہی تینوں کو کمزور کردیتی ہے۔ سرمایہ کار ایسے مارکیٹ پر اعتماد نہیں کریں گے جہاں صارفین کا ڈیٹا کھلے عام لیک ہورہا ہو۔ شہری ایسی خدمات پر اعتماد نہیں کریں گے جو انہیں فراڈ اور دھوکے کے خطرات میں ڈالیں اور اگر ریاست اپنے وزرا کے ریکارڈ بھی محفوظ نہ رکھ سکے تو اسے بھی اعتماد حاصل نہیں ہوگا۔

اب جو ڈیٹا لیک سامنے آیا ہے یہ نہ پہلا ہے اور نہ ہی آخری ہوگا، جب تک کہ فیصلہ کن اقدامات نہ کیے جائیں۔ پاکستان ایک ایسی ڈیجیٹل معیشت کا متحمل نہیں ہو سکتا جو ریت کی بنیاد پر کھڑی ہو۔ شہری محض انکوائریوں اور وعدوں کے مستحق نہیں، وہ ایسی ریاست کے مستحق ہیں جو ان کے ڈیٹا کو اسی سنجیدگی سے محفوظ کرے جس سنجیدگی سے اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے۔ اگر ڈیٹا نیو آئل ہے تو اس کا تحفظ نئی خودمختاری ہے۔ اس کے بغیر ڈیجیٹائزیشن محض ایک نعرہ رہ جائے گا اور ہر شہری جدید دور میں غیر محفوظ کھڑا ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.