انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔
کاروبار کے اختتام پرڈالر کے مقابلے روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 281.60 روپے کا ہوگیا۔
واضح رہے کہ یہ مسلسل 24 واں روز ہے جب ڈالر روپے کے مقابلے تنزلی کا شکار ہے۔
یاد رہے کہ منگل کو مقامی کرنسی 281.61 روپے پر بند ہوئی تھی۔
عالمی سطح پر بدھ کو امریکی ڈالر مستحکم رہا کیونکہ ٹریڈرز اس ہفتے جاری ہونے والی اہم افراطِ زر کی رپورٹس کے منتظر ہیں، جو آئندہ ہفتے اور اس کے بعد فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کے حجم اور دائرہ کار کو متعین کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
گزشتہ ہفتے کی مایوس کن روزگار رپورٹ کے بعد یہ توقعات مزید مضبوط ہو گئیں کہ فیڈ اپنی 16-17 ستمبر کی پالیسی میٹنگ میں قرض لینے کی لاگت کم کرے گا۔ اب سرمایہ کاروں کے لیے واحد سوال یہ ہے کہ کمی 25 بیسس پوائنٹس کی ہوگی یا 50 بیسس پوائنٹس کی۔
اس بات کا زیادہ تر انحصار اس امر پر ہوگا کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں قیمتوں پر ٹیرف کے اثرات کس حد تک پڑتے ہیں۔ امریکی پروڈیوسر پرائس انفلیشن کے اعداد و شمار بدھ کو جاری ہوں گے جبکہ کنزیومر پرائس انفلیشن کی رپورٹ جمعرات کو سامنے آئے گی۔
ٹریڈرز آئندہ ہفتے 25 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کو مکمل طور پر مدنظر رکھے ہوئے ہیں اور 50 بیسس پوائنٹس کمی کے امکانات کو 5 فیصد قرار دیا ہے۔ وہ اس سال مجموعی طور پر 66 بیسس پوائنٹس کی نرمی کی توقع کر رہے ہیں۔
ڈالر انڈیکس منگل کو 0.3 فیصد اضافے کے بعد بدھ کے روز 97.834 پر مستحکم رہا۔ سال 2025 میں اب تک یہ انڈیکس تقریباً 10 فیصد نیچے آیا ہے کیونکہ غیر مستقل امریکی تجارتی پالیسیوں اور شرح سود میں کمی کی توقعات نے ڈالر کی کشش کو کمزور کردیا ہے۔


Comments
Comments are closed.