قوم آج یوم دفاع قومی جوش و جذبے کے ساتھ منارہی ہے تاکہ 1965 کی بھارت کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے ہیروز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاسکے۔
یوم دفاع کے موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپو ں کی سلامی سے دن کا آغاز ہوا۔
اس موقع پر مساجد میں ملک کی ترقی و خوشحالی اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت کی ظالمانہ گرفت سے آزاد کرانے کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
مخلتف شہروں میں شہداء کے لیے فاتحہ اور قرآن خوانی بھی منعقد کی جارہی ہیں ۔
کراچی میں قائداعظم کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد ہوئیں۔
آج نیوز کے مطابق یوم دفاع پر مزار قائد پر گارڈ تبدیلی کی پروقار تقریب میں پاکستان ایئرفورس اکیڈمی اصغر خان کے چاک و چوبند دستے نے گارڈز کے فرائض سنبھال لیے ہیں۔
تقریب کے مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل شہریار خان تھے جنہوں نے مزار قائد پر پھول رکھے اور مہمانوں کی کتاب میں تاثرات بھی قلمبند کیے جہاں انہوں نے پی اے ایف دستے کا معائنہ بھی کیا ہے۔
اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایئر وائس مارشل شہریار خان نے کہا کہ پاک فضائیہ ہمیشہ قوم کی امیدوں پر پورا اتری ہے، عوام کو کبھی مایوس نہیں کیا، ہم ہر محاذ پر تیار کھڑے ہیں۔
ایئر وائس مارشل شہریار خان کا کہنا تھا کہ دفاع وطن کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہیں گے، آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص نے 6 ستمبر کی یاد تازہ کی ہے، اگلی بار اسکور 0-6 نہیں بلکہ 0-60 ہوگا۔
ایئر وائس مارشل نے کہا کہ ہمارے دشمنوں کو ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی، آئندہ بھی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 6 ستمبرہمیں اس دن کی یاد دلاتا ہے جب ہم نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا۔
انہوں نے کہا کہ آج ائیر فورس کے لیے کمانڈ سنبھالنا اعزاز کی بات ہے، گارڈ کی تبدیلی کوئی رسم نہیں ہے، قائداعظم محمد علی جناح نے ہمیں اتحاد کا درس دیا ہے۔ ہم قائداعظم کے نظریات کے امین ہیں، ہم دشمن کو ہر محاذ پر شکست دینے کےلئے تیار ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ائیر چیف مارشل بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ مزید مارڈرن ہوئی ہے۔
ایئر وائس مارشل شہریار خان نے کہا کہ پوری قوم کو افواج پاکستان کی کامیابی پر فخر ہے، یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کی فضائی حدود کا دفاع پاک فضائیہ کے مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
صدر اور وزیراعظم کے پیغامات
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کا یوم دفاع و شہداء ہماری تاریخ کا ایک حوصلہ افزاء باب ہے، اس دن ہم ایک قابل فخر قوم کے طور پر اپنی بہادر مسلح افواج اور ثابت قدم عوام کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنی سرحدوں کا غیر متزلزل ایمان اور بے مثال بہادری کے ساتھ دفاع کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ 1965ء کی قربانیوں کا جذبہ ایک لازوال روشنی بن چکا ہے جو ہماری آئندہ نسلوں کو ہر آزمائش اور چیلنج کے دوران رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے 6 ستمبرکوقومی تاریخ میں بہادری ، اتحاد اورعزم کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 60 سال قبل ہماری بہادر مسلح افوا ج نے دشمن کے جارحانہ عزائم کو ناکام بنا کرثابت کیا کہ وہ ملکی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں،معرکہ حق میں ایک بار پھر ہماری مسلح افواج اورعوام نے جارحیت کے خلاف آہنی دیوار بن کردشمن کے تکبرکو کچلتے ہوئے نئی تاریخ رقم کی۔
یاد رہے کہ 6 سمتبر 1965 کو بھارتی افواج نے رات کے اندھیرے میں بین الاقوامی سرحد پار کرکے پاکستان پر حملہ کیا تھا، لیکن قوم نے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنادیا تھا۔
یہ دن ہمارے بہادر سپاہیوں کی دلیری، قربانی اور حوصلے کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جنہوں نے نہایت مشکلات کے باوجود وطن کی حفاظت کی۔ 60 سال قبل پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کے شیطانی عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک تاریخی فتح حاصل کی، جو ہمیشہ تاریخ کے صفحات میں یاد رکھی جائے گی۔
1965 کی جنگ قوم کے عزم اور حوصلے کی علامت ہے جس نے مشکل حالات میں پاکستان کی مستقل مزاجی اور ہمت کی بہترین مثال پیش کی۔


Comments
Comments are closed.