پاکستان اور چین نے سیکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ چینی سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے مشترکہ ایکشن پلان کے تحت کیا گیا۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب وزیراعظم شہباز شریف نے چین کا دورہ کیا اور بیجنگ میں صدر شی جن پنگ سمیت اعلیٰ چینی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
اے پی پی کے مطابق پاکستان اور چین نے مختلف شعبوں میں 8.5 ارب ڈالر مالیت کے دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کو اقتصادی ترقی کا طویل سفر قرار دیا۔
بیجنگ میں منعقدہ دوسرے پاک-چین بی ٹو بی انوسٹمنٹ کانفرنس کے دوران چینی اور پاکستانی کمپنیوں نے 7 ارب ڈالر کے مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) اور 1.54 ارب ڈالر کے مشترکہ منصوبوں پر دستخط کیے، جن کی مجموعی مالیت 8.5 ارب ڈالر بنتی ہے۔ یہ معاہدے زراعت، الیکٹرک گاڑیاں، شمسی توانائی، صحت، کیمیکل اور پیٹروکیمیکلز، آئرن اور اسٹیل سمیت دیگر شعبوں میں کیے گئے۔
اپنے کلیدی خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ لانگ مارچ سرمایہ کاری اور روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کرے گا۔
انہوں نے پاکستان اور چین کے اقتصادی تعاون کے لیے نیا وژن پیش کرتے ہوئے سی پیک 2.0 کے باضابطہ آغاز کا اعلان کیا، جو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دے گا اور توجہ کاروبار سے کاروبار سرمایہ کاری کی جانب منتقل کرے گا، خاص طور پر زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، معدنیات اور صنعتی منتقلی کے شعبوں میں۔
اعلیٰ سطح وفود کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس فورم کو پاکستان اور چین کے آہنی بھائی چارے کا مظہر قرار دیا۔
وزیراعظم نے خصوصی اقتصادی زونز کے کردار پر زور دیا، جنہیں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ سستی ہنرمند افرادی قوت اور اعلیٰ معیار کی برآمدی مصنوعات کی تیاری کے لیے مشترکہ منصوبوں جیسے فوائد فراہم کرتے ہیں۔
اپنے خطاب کے ایک جذباتی حصے میں وزیراعظم شہباز شریف نے 1982 میں چین کے اپنے پہلے دورے کی یادیں سنائیں اور بتایا کہ اس دورے نے پاکستان-چین تعلقات کی بنیاد رکھی۔
بیوروکریسی کی سست روی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے چینی سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ سرمایہ کاری میں تمام رکاوٹیں اور تاخیر ختم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک لمحے کی تاخیر بھی برداشت نہیں کریں گے۔ حال ہی میں ایک چینی سرمایہ کار کو 24 گھنٹوں کے اندر سہولت فراہم کی گئی۔ یہی عزم ہم سب کے لیے مثال ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کی حفاظت کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا اور کہا کہ چینی شہریوں کی سلامتی سب سے بڑھ کر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان روزانہ 20 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہا تھا، لیکن صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت کے تحت پاکستان توانائی کے شعبے میں خود کفیل بن گیا، جو ایک تاریخی موڑ تھا۔
اپنے اختتامی کلمات میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بدلنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ راستہ مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔ چین کی حمایت اور ہمارے عزم کے ساتھ، ہم پاکستان کو مضبوط اور متحرک معیشت بنائیں گے۔ آج کا دن اس سفر کے آغاز کے طور پر یاد رکھا جائے۔
پاکستان اور چین نے اپنے تعلقات کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اپ گریڈ شدہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک 2.0) کے اگلے مرحلے میں پانچ نئے کارڈور شامل کرنے اور قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اس کے علاوہ وزیرِاعظم شہباز شریف اور چینی وزیرِاعظم لی کیانگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اپنی گرمجوش اور دوستانہ ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے پاکستان کی سرحدی سالمیت، خودمختاری اور معاشی و سماجی ترقی کے لیے چین کی قیادت اور عوام کی غیر متزلزل حمایت پر گہری شکرگزاری کا اظہار کیا۔
صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی شاندار ترقی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان چین کی کامیابیوں کی تقلید کرنا چاہتا ہے اور ایک مضبوط و قریبی پاکستان-چین کمیونٹی تعمیر کرنا چاہتا ہے جس کا مستقبل مشترکہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ان کی حکومت کی انتھک اصلاحاتی کوششیں امید افزا نتائج دے رہی ہیں، جو چین کی مضبوط حمایت کی بدولت ممکن ہوئی ہیں۔


Comments
Comments are closed.