پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایک غیرمعمولی اتفاقِ رائے کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخوا حکومت کے ایک مطالبے کی حمایت کر دی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے مطالبے کی تائید کی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے منگل کے روز ایک بیان میں حالیہ تباہ کن سیلابوں کے پس منظر میں علی امین گنڈاپور کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھے اور آئندہ سیلابی آفات سے بچاؤ کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی ترتیب دے۔
انہوں نے کہا کہ ”پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کی زد میں ہیں، اس لیے نئے ڈیموں کی تعمیر اب قومی ضرورت بن چکی ہے۔“
ان کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم پر جاری اختلافی بحث نے اب نئی جہت اختیار کر لی ہے، اور یہ معاملہ صرف صوبائی حدود تک محدود نہیں رہ گیا۔
قبل ازیں خیبرپختونخوا میں سیلاب کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 411 تک پہنچنے پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے منگل کو اپنے بیان میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ”کالاباغ ڈیم پاکستان کے لیے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے ضرور تعمیر ہونا چاہیے۔ صوبائیت کو ملک کے مفاد پر حاوی نہیں ہونے دیا جا سکتا۔“
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس کے قیام کو محض صوبائی تحفظات کے نام پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ”ڈیموں کی عدم موجودگی کے باعث بارشوں اور سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے۔ کچھ ڈیموں کے نام لینا بھی لوگ گوارا نہیں کرتے، لیکن کالاباغ ڈیم ریاستی ضرورت ہے۔ اگر کسی کو تحفظات ہیں تو بات چیت کے ذریعے ان کا حل نکالا جائے۔“
دریں اثناء پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے واضح کیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نئے ڈیمز کی تعمیر کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں کیونکہ یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں سیلابی صورتحال حکومت کے کنٹرول میں ہے اور متاثرہ آبادی کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر نے انکشاف کیا ہے کہ اب تک 9 لاکھ 99 ہزار سے زائد افراد اور 7 لاکھ سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے 3,243 دیہات اور 24 لاکھ سے زائد آبادی متاثر ہو چکی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ اس وقت سب سے زیادہ دباؤ تریموں ہیڈ ورکس پر ہے، تاہم دریائے راوی میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 395 ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں جہاں متاثرہ خاندانوں کو رہائش اور معیاری خوراک فراہم کی جا رہی ہے، جب کہ 392 میڈیکل کیمپ اور 336 ویٹرنری کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خود سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کیے، فیلڈ اسپتالوں کا معائنہ کیا اور متاثرہ عوام کو یقین دلایا کہ ”جب تک ہر گھر مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتا، حکومت آرام سے نہیں بیٹھے گی۔“
انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ صحت کو ہدایت دی گئی ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اور تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتالوں میں درپیش عملے یا ادویات کی کمی فوری طور پر دور کی جائے تاکہ وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
وزیر اطلاعات نے ریسکیو 1122 کی انتھک کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کے اعتراف اور حوصلہ افزائی کی مزید ضرورت ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات پھیلانے کے رجحان پر خبردار کرتے ہوئے شہریوں سے کہا کہ صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں اور غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں۔
اپنے بیان کے اختتام پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ”عوام بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ کون ان کے ساتھ کھڑا ہے اور کون صرف پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کسی کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔“


Comments
Comments are closed.