BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اتوار کے روز شمالی چین کے بندرگاہی شہر تیانجن پہنچ گئے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ چین اور روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق، پیوٹن کا چار روزہ دورہ ایک غیر معمولی دورہ ہے، جس کے دوران انہیں ریڈ کارپٹ استقبال اور اعلیٰ حکام کی جانب سے خوش آمدید کہا گیا۔

چینی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق، چین اور روس کے تعلقات تاریخ کی بہترین سطح پر ہیں اور انہیں بڑے ممالک کے درمیان سب سے مستحکم، اور اسٹریٹجک طور پر اہم تعلقات قرار دیا گیا ہے۔ اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ تقریباً 20 عالمی رہنماؤں کی میزبانی کریں گے جن میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہوں گے۔

شنگھائی تعاون تنظیم 2001 میں چھ یوریشیائی ممالک کے ساتھ قائم ہوئی تھی، جو اب 10 مستقل رکن ممالک اور 16 مبصر و مکالماتی شراکت داروں تک پھیل چکی ہے۔ اس کا دائرہ کار انسداد دہشت گردی سے بڑھ کر معاشی اور عسکری تعاون تک وسیع ہو چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، شی جن پنگ اس اجلاس کو امریکی غلبے کے بعد کے عالمی نظام کی جھلک دکھانے کے لیے استعمال کریں گے، جبکہ روس کے لیے یہ اجلاس ایک اہم سفارتی سہارا فراہم کرے گا، جو یوکرین پر حملے کے باعث مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔

Comments

Comments are closed.