BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اتوار کے روز شمالی چین کے بندرگاہی شہر تیانجن پہنچ گئے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ چین اور روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق، پیوٹن کا چار روزہ دورہ ایک غیر معمولی دورہ ہے، جس کے دوران انہیں ریڈ کارپٹ استقبال اور اعلیٰ حکام کی جانب سے خوش آمدید کہا گیا۔

چینی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق، چین اور روس کے تعلقات تاریخ کی بہترین سطح پر ہیں اور انہیں بڑے ممالک کے درمیان سب سے مستحکم، اور اسٹریٹجک طور پر اہم تعلقات قرار دیا گیا ہے۔ اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ تقریباً 20 عالمی رہنماؤں کی میزبانی کریں گے جن میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہوں گے۔

شنگھائی تعاون تنظیم 2001 میں چھ یوریشیائی ممالک کے ساتھ قائم ہوئی تھی، جو اب 10 مستقل رکن ممالک اور 16 مبصر و مکالماتی شراکت داروں تک پھیل چکی ہے۔ اس کا دائرہ کار انسداد دہشت گردی سے بڑھ کر معاشی اور عسکری تعاون تک وسیع ہو چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، شی جن پنگ اس اجلاس کو امریکی غلبے کے بعد کے عالمی نظام کی جھلک دکھانے کے لیے استعمال کریں گے، جبکہ روس کے لیے یہ اجلاس ایک اہم سفارتی سہارا فراہم کرے گا، جو یوکرین پر حملے کے باعث مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔

Comments

Comments are closed.