BR100 Increased By (0.29%)
BR30 Increased By (0.37%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح ہفتہ کے روز مزید بلند ہوگئی جس کے نتیجے میں کچے کے علاقوں میں واقع درجنوں دیہات اور فصلیں زیر آب آگئیں۔

حکام کے مطابق دریا میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ گڈو پر پانی کا بہاؤ 389,000 کیوسک سے زائد ریکارڈ کیا گیا جبکہ اخراج 356,000 کیوسک رہا۔ کنٹرول روم کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پانی کی سطح میں 22,047 کیوسک اضافہ ہوا اور توقع ہے کہ 4 اور 5 ستمبر کے دوران پنجند سے مزید پانی آنے پر سطح مزید بلند ہوگی۔

ادھر جمعہ کی رات سیلابی صورتحال کے حوالے سے ویڈیو لنک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر تمام محکمے فوری طور پر متحرک ہوگئے ہیں۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری آبپاشی نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی ایڈوائزری کی روشنی میں پنجند اور گڈو پر پانی کی سطح کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ڈویژنل کمشنرز نے متاثرہ علاقوں کے دوروں اور وہاں قائم ریلیف کیمپس کے حوالے سے بریفنگ دی۔

محکمہ لائیو اسٹاک کے حکام نے بتایا کہ صوبے بھر میں جانوروں کی ویکسینیشن کے لیے 300 کیمپس قائم کیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر 87,677 جانوروں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ حکام نے آگاہ کیا کہ پی ڈی ایم اے کے پاس کراچی، جامشورو اور سکھر میں 18 لاکھ مچھر مار ادویات کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ 2,68,000 خیمے، 2,78,000 رضائیاں اور دیگر سامان بھی دستیاب ہے۔

نوشہرو فیروز کے ڈپٹی کمشنر محمد ارسلان سلیم نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ دریائے سندھ میں کندیارو کے مقام پر 400,000 کیوسک پانی گزر رہا ہے اور پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اگر علاقے میں اونچے درجے کا سیلاب آیا تو تقریباً 95,000 افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کل 20 یونین کونسلوں میں سے تین زیادہ خطرے میں ہیں۔ تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ضلعی انتظامیہ نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل کر لیے ہیں اور دریا کے حفاظتی بند مضبوط بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

علاوہ ازیں ہفتہ کے روز محکمہ اطلاعات سندھ نے اعلان کیا کہ صوبے میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر اس ویک اینڈ پر اپنے ملازمین کی دو روزہ تعطیلات منسوخ کر دی گئی ہیں۔

Comments

Comments are closed.