ہر مون سون پر پاکستان ایک ہی تماشا دہراتا ہے۔ سیلابی میدانوں پر آبادیاں بسانا، آبی گزرگاہوں کو خشک کرنا، بند ٹوٹنا اور ریاست کا اسے قدرتی آفت‘ قرار دینا۔ ریلیف پیکجز کا اعلان ہوتا ہے، سیاستدان کمر تک پانی میں تصویریں کھنچواتے ہیں اور سب ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے یہ سب ناگزیر تھا۔ یہ حقیقت نہیں۔ یہ سال در سال دہرانے والی پالیسی کی بدانتظامی ہے۔
ملک نے عام فہم عقل کو الٹا کر دیا ہے۔ دلدلیں، جو قدرتی ڈھال کا کام کرتی ہیں، انہیں بیکار زمین سمجھا جاتا ہے۔ سیلابی میدان، جو دریا کے لیے چھوڑے جانے چاہئیں، کسانوں اور ڈویلپرز کے حوالے کر دیے جاتے ہیں جیسے وہ قیمتی اراضی ہو۔ نتیجہ صاف ہے۔ ایک موسم میں خطرناک زمین وافر پیداوار دیتی ہے اور اگلے میں مکمل تباہی۔ اور اس کا بوجھ ہمیشہ قومی خزانے پر آتا ہے۔
سبسڈائزڈ ان پٹس ڈالے جاتے ہیں، بند اور آبپاشی نظام مرمت ہوتے ہیں، اور جیسے ہی ناگزیر شگاف پڑتا ہے، ریاست بحالی کا خرچ اٹھاتی ہے۔ کسان اپنی فصل کھوتا ہے، بینک اپنی ضمانت گنواتا ہے اور خزانہ اپنی پونجی۔ صرف وہی جیتتے ہیں جنہوں نے پہلے زمین بانٹ کر بیچی تھی۔
آخر خطرناک زمین کیا ہے؟ یہ ہر وہ ایکڑ ہے جو فعال سیلابی میدان کے اندر بنایا گیا ہو، دریا کے کنارے اور کچے کے علاقے ہوں، نشیبی مقامات یا نکاسی کے راستے جنہیں پانی نے بہرحال بھرنا ہے۔ یہ ہر وہ پلاٹ ہے جو بندوں پر انحصار کرتا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی سے بھاری مون سون کے دباؤ کو روک سکے۔ یہ ہر وہ بستی یا مکان ہے جو دریا کی سانس لینے کی جگہ کو روکتا ہے۔ یہ صرف کھیتی باڑی نہیں۔ یہ بھٹے، پولٹری فارم، ہاؤسنگ کالونیاں، حتیٰ کہ سڑکیں اور گودام تک ہیں جو خطرے کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
تعریف کے مطابق، خطرناک زمین وہ زمین ہے جو زرخیز تو ہے لیکن محفوظ نہیں۔ قلیل مدت میں منافع بخش لیکن طویل مدت میں لازمی طور پر تباہ کن۔
اسی دوران، دلدلوں کو بغیر سوچے سمجھے ختم کیا جا رہا ہے۔ کینجھر، ہالیجی، منچھر، تونسہ، چشمہ—سب برباد۔ یہ محض کنارے کے دلدلی علاقے نہیں۔ یہ سپنج ہیں جو سیلاب کو جذب کرتے ہیں، زیر زمین پانی کو دوبارہ بھرتے ہیں اور پانی کے بہاؤ کی رفتار کم کرتے ہیں۔ انہیں ختم کریں تو یہی پانی نیچے شہروں اور دیہاتوں میں مہلک قوت سے داخل ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ دلدلیں جی ڈی پی یا ریونیو ریکارڈز میں نہیں آتیں، اس لیے انہیں ضائع سمجھ کر لکھ دیا جاتا ہے۔
سیاسی معیشت بالکل واضح ہے۔ اگر صرف ایک موسم آگے سوچا جائے تو سیلابی میدان قیمتی لگتے ہیں۔ سیاستدان اور ڈویلپر ووٹ اور پلاٹس دیکھتے ہیں، کسان مفت زرخیزی، اور حکومتیں زمین کا ریونیو۔ آبپاشی کی بیوروکریسی اب بھی سمجھتی ہے کہ دریا مشین ہیں جنہیں مزید بیراج اور بند بنا کر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ہر سیلاب اس کے برعکس ثابت کرتا ہے۔
حل ایک اور ریلیف پیکج یا ایک اور موسمیاتی کانفرنس کا وعدہ نہیں ہے۔ حل شرط ہے۔ کوئی بھی امداد، کوئی بھی ڈونر فنانسنگ، کوئی بھی بجٹ الاٹمنٹ جو کلائمیٹ ریزیلینس کے نام پر دیا جائے، اسے دو چیزوں سے مشروط ہونا چاہیے: دلدلوں کی بحالی اور خطرناک زمین کو خالی کرانا۔
جب تک ریاست ثبوت نہ دکھائے کہ لوگوں اور کھیتوں کو خطرناک علاقوں سے ہٹایا جا رہا ہے اور سیلابی میدانوں کو پانی کے حوالے کیا جا رہا ہے، اس وقت تک بندوں، سبسڈیز یا درآمدی آلات پر ایک روپیہ بھی خرچ نہ کیا جائے۔
ورنہ پاکستان ریزیلینس کے نام پر غیر ملکی گرانٹس اور قرضے لیتا رہے گا اور ساتھ ساتھ وہی ماحولیاتی نظام تباہ کرتا رہے گا جو ریزیلینس کو ممکن بناتے ہیں۔
یہاں کوئی اصل انتخاب باقی نہیں۔ یا تو پاکستان خطرناک زمین پر جوا کھیلتا رہے اور آفات کو سبسڈائز کرتا رہے، یا پھر جو کچھ تباہ کیا ہے اسے بحال کرے۔ اس کا مطلب ہے فعال سیلابی میدانوں کی زوننگ اور کسی بھی مستقل آبادی کے لیے قرض، انشورنس یا ریاستی ضمانت کا خاتمہ۔
اس کا مطلب ہے دلدلوں کو قومی سلامتی کا انفراسٹرکچر سمجھنا، نہ کہ کچرا پھینکنے کی جگہ۔ اس کا مطلب ہے ان کے گرد مخلوط روزگار نظام بنانا تاکہ مقامی لوگ بحالی میں اپنی قدر دیکھیں، بے دخلی میں نہیں۔
پاکستان کو کلائمیٹ ایڈاپٹیشن پر بات کرنا پسند ہے۔ سیلابی میدانوں کی بحالی سب سے واضح ایڈاپٹیشن ہے، لیکن اس کے لیے لینڈ مافیاز اور سیاسی سرپرستوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
ریاست یا تو دریاؤں میں کنکریٹ ڈالتے رہنے کا خواب دیکھے اور اچھے کی امید رکھے، یا پھر دریاؤں کو ان کی جگہ واپس دے۔ ڈونرز، قرض دہندگان اور ٹیکس دہندگان کو یہ فریب فنڈ کرنا بند کرنا ہوگا۔ دلدل نہیں، امداد نہیں۔


Comments
Comments are closed.