زین وی سی کے پورٹ فولیو میں شامل فنانس اسٹارٹ اپس حبال (Haball) اورپوسٹ ایکس( PostEx) نے 2025 کی ’فوربز ایشیا 100 ٹو واچ‘ فہرست میں جگہ بنالی لی ہے۔
فوربز کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایشیا 100 ٹو واچ فہرست کا پانچواں سالانہ ایڈیشن ہے، جس کا مقصد ایشیا پیسفک خطے میں متحرک اسٹارٹ اپس اور چھوٹی کمپنیوں کی دنیا کو ایک جھروکے سے دکھانا ہے۔ یہ ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا مربوط کاروباری یا ٹیکنالوجی کا نظام ہے جو اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ترین ٹیکنالوجی (ڈیپ ٹیک) پر توجہ مرکوز کر کے جدت اور ترقی کی راہیں تلاش کر رہا ہے۔
2017 میں قائم ہونے والا حبال کراچی میں قائم ہے اور اس کی قیادت عمر بن احسن کر رہے ہیں۔ فوربز کے مطابق حبال ایک بی ٹو بی (B2B) فِن ٹیک کمپنی ہے جو پاکستان میں کاروباری اداروں کو شریعت سے ہم آہنگ سپلائی چین فنانسنگ اور ادائیگی کی خدمات فراہم کرتی ہے۔
اسٹارٹ اپ حبال کی خدمات میں ڈیجیٹل انوائسنگ، ٹیکس کمپلائنس اور ورکنگ کیپیٹل فنانسنگ شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق اب تک وہ 3 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ادائیگیوں پر عمل درآمد کر چکی ہے۔ رواں سال اپریل میں حبال نے پری سیریز اے فنڈنگ راؤنڈ میں 5 کروڑ 20 لاکھ ڈالر حاصل کیے، جن میں 50 لاکھ ڈالر کی ایکویٹی فنڈنگ زین وی سی کی قیادت میں شامل تھی، جبکہ 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی اسٹریٹجک فنانسنگ پاکستان کے سب سے بڑے اسلامی بینک، میزان بینک، سے حاصل کی گئی۔
دوسری جانب، 2020 میں قائم ہونے والا پوسٹ ایکس بھی کراچی میں واقع ہے اور اس وقت محمد عمر خان کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پوسٹ ایکس کو ایک ہائبرڈ لاجسٹکس اور فِن ٹیک کمپنی قرار دیا گیا ہے، جو پاکستان کی بنیادی طور پر نقدی پر مبنی معیشت میں آن لائن ریٹیل سیکٹر کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔
ابتدائی طور پر بطور ڈیلیوری سروس آغاز کرنے کے بعد، پوسٹ ایکس نے اپنے بزنس ماڈل کو تبدیل کرتے ہوئے ای کامرس تاجروں کو پیشگی ادائیگیاں فراہم کرنا شروع کیں، جبکہ گاہکوں سے واجب الادا رقم ڈیلیوری کے وقت وصول کی جاتی ہے۔ فوربز کے مطابق کمپنی کا یہ طریقہ کار فروخت کنندگان کو کیش فلو کے موثر انتظام میں مدد دیتا ہے اور کوریئر آپریشنز کو بھی بہتر بناتا ہے۔
2022 میں پوسٹ ایکس نے اپنے ایک مسابقتی لاجسٹکس ادارے کال کوریئر( Call Courier) کو حاصل کیا، جس کے بعد وہ پاکستان کی سب سے بڑی ای کامرس ڈیلیوری سروس بن گئی۔
کمپنی نے اگست 2024 میں کنجنکشن کیپٹل ( Conjunction Capital)، ایک وینچر کیپیٹل ادارہ ہے جو ابتدائی مرحلے کے کاروباروں، خصوصاً ٹیکنالوجی اور فِن ٹیک شعبوں، میں سرمایہ کاری کرتا ہے، کی قیادت میں 73 لاکھ ڈالر کی پری سیریز اے فنڈنگ بھی حاصل کی، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں وسعت حاصل کرنا تھا۔
زین وی سی نے اس کامیابی کی اطلاع لنکڈ اِن پر دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعتراف نہ صرف ان بانیوں کی شاندار کارکردگی کو سراہتا ہے، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے خطے کے اسٹارٹ اپ عالمی سطح پر کس حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں۔
ادارے نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ زین وی سی کی کمپنیوں کو فوربز کی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، 2024 میں نیا پے( NayaPay) کو بھی اس فہرست میں جگہ ملی تھی۔ اسی طرح 2022 میں قائم ہونے والا آن لائن گروسری اسٹارٹ اپ ڈیل کارٹ (DealCart) بھی پچھلے سال کی فہرست کا حصہ رہا تھا۔
زین وی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ ہمارے ایکو سسٹم کے لیے باعثِ فخر لمحہ ہے اور پاکستان و خطے کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔
زین وی سی ایک وینچر کیپیٹل فنڈ ہے جو امریکہ اور کیمین آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہے اور پاکستان میں ابتدائی مرحلے کے کاروباری منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔
لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق زین وی سی پاکستان بھر میں ایسی ٹیکنالوجی پر مبنی تبدیلی لانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جو مقامی ضروریات کو جدید حل فراہم کر رہی ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ہم عمومی طور پر ابتدائی مرحلے کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور اگرچہ ہم کسی مخصوص شعبے تک محدود نہیں، تاہم ہر کمپنی کو فِن ٹیک کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم نے پاکستان میں بی ٹو سی ( B2C) اور بی ٹو بی ای کامرس، لاجسٹکس اور فِن ٹیک سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے اور ہمارے پورٹ فولیو کا 50 فیصد حصہ معروف پاکستانی فِن ٹیک کمپنیوں پر مشتمل ہے۔
زین وی سی کی بنیاد 2021 میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت اور سرمایہ کار فیصل آفتاب نے رکھی تھی۔ یہ پاکستان میں ان کا دوسرا فنڈ ہے؛ اس سے قبل وہ لیکسن وی سی ( Lakson VC) کے بانیوں میں شامل تھے۔
فوربز کے مطابق 2024 کے اختتام پر ایشیا پیسفک (اے پی اے سی) خطے میں وینچر کیپیٹل فنڈنگ گزشتہ دس سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم رواں سال بعض ممالک میں اس میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
کے پی ایم جی (KPMG) ، ایک عالمی فرم ہے جو کاروباروں کو مالی اور قانونی مشورے فراہم کرتی ہے، کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں سال بھارت، جاپان اور سنگاپور زیادہ رسک کیپٹل (خطرات کے باوجود سرمایہ کاری) حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
اس سال کی فہرست میں کل 16 ممالک اور خطوں کی نمائندگی کی گئی، جن میں بھارت 18 کمپنیوں کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد سنگاپور اور جاپان کا نمبر رہا (14، 14 کمپنیاں)، چین (9)، انڈونیشیا اور جنوبی کوریا (8، 8 کمپنیاں) اور آسٹریلیا (7 کمپنیاں) شامل ہیں۔
فوربز کے مطابق سرمایہ کار ان شعبوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، جیسے بایوٹیکنالوجی، اسپیس ٹیک (خلائی ٹیکنالوجی) اور گرین ٹیک (ماحولیاتی ٹیکنالوجی)۔ ہماری فہرست میں ان شعبوں سے وابستہ کئی کمپنیاں شامل ہیں، کچھ ایسی کمپنیاں جو کینسر کے علاج کے لیے جین ایڈیٹنگ تھراپی تیار کر رہی ہیں، کچھ جو لیتھیئم آئن بیٹریوں کے لیے نئے اینوڈ میٹریلز بنا رہی ہیں اور کچھ خلائی جہازوں کے لیے جدید پروپلشن سسٹمز پر کام کر رہی ہیں۔
مجموعی طور پررواں سال کی فہرست میں شامل 100 کمپنیوں نے اب تک تقریباً 3 ارب امریکی ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی ہے جبکہ گزشتہ سال کی کمپنیوں نے 2 ارب ڈالر جمع کیے تھے۔


Comments
Comments are closed.