ملک میں کاٹن کی پیداوار میں 17 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو زرعی شعبے کے لیے ایک تشویشناک صورت حال کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجوہات موسمی تبدیلی اور غیرموسمی بارشیں ہیں۔
مون سون کے موسم کی وجہ سے کاٹن کی تجارت شدید متاثر ہوئی ہے اور تجارتی سرگرمیاں محدود ہوگئی ہیں۔ کسان اور تاجر دونوں اس صورتحال سے نقصان اٹھا رہے ہیں۔
موسمی حالات کی وجہ سے مختلف علاقوں میں کاٹن کی فصل کے معیار میں واضح فرق دیکھا گیا ہے۔ بعض علاقوں میں بارش نے فصل کو فائدہ پہنچایا اور وہاں کاٹن کی پیداوار تسلی بخش ہے۔ تاہم جن کھیتوں میں پانی جمع ہوگیا وہاں فصل کو شدید نقصان کا خطرہ ہے۔
کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین فاروق الحق کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پنجاب صوبے میں تقریباً پچاس فیصد جننگ فیکٹریاں غیر فعال ہوگئی ہیں۔ یہ صورتحال صنعتی شعبے کے لیے انتہائی تشویشناک ہے اور معیشت پر طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتی ہیں۔
ہیڈ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی، سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان ساجد محمود نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کاٹن کی بحالی کے لیے پائیدار اور جامع حل صرف موثر حکومتی سرپرستی اور منظم اقدامات کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کا فوری حل تلاش کرنا وقت کی انتہائی اہم ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم نے بھی کپاس کی صنعت کی موجودہ تباہی کے بارے میں سنجیدگی کا اظہار کیا ہے اور خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ حکومتی سطح پر اس مسئلے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔


Comments
Comments are closed.