BR100 Decreased By (-1.16%)
BR30 Decreased By (-1.3%)
KSE100 Decreased By (-1.01%)
KSE30 Decreased By (-1.03%)
BAFL 56.39 Decreased By ▼ -0.35 (-0.62%)
BIPL 26.94 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
BOP 33.02 Decreased By ▼ -0.66 (-1.96%)
CNERGY 9.89 Increased By ▲ 0.08 (0.82%)
DFML 18.20 Decreased By ▼ -0.32 (-1.73%)
DGKC 204.39 Decreased By ▼ -3.48 (-1.67%)
FABL 96.46 Decreased By ▼ -2.44 (-2.47%)
FCCL 52.44 Decreased By ▼ -1.08 (-2.02%)
FFL 16.48 Decreased By ▼ -0.20 (-1.2%)
GGL 23.39 Decreased By ▼ -0.18 (-0.76%)
HBL 299.62 Decreased By ▼ -4.77 (-1.57%)
HUBC 216.27 Decreased By ▼ -1.84 (-0.84%)
HUMNL 10.60 Decreased By ▼ -0.06 (-0.56%)
KEL 7.25 Decreased By ▼ -0.10 (-1.36%)
LOTCHEM 28.89 Decreased By ▼ -0.22 (-0.76%)
MLCF 92.95 Decreased By ▼ -2.55 (-2.67%)
OGDC 315.89 Decreased By ▼ -2.05 (-0.64%)
PAEL 41.05 Decreased By ▼ -0.78 (-1.86%)
PIBTL 16.40 Decreased By ▼ -0.10 (-0.61%)
PIOC 275.00 Decreased By ▼ -5.01 (-1.79%)
PPL 218.20 Decreased By ▼ -1.54 (-0.7%)
PRL 45.20 Increased By ▲ 0.61 (1.37%)
SNGP 105.00 Decreased By ▼ -2.49 (-2.32%)
SSGC 28.15 Decreased By ▼ -0.78 (-2.7%)
TELE 8.55 Decreased By ▼ -0.21 (-2.4%)
TPLP 12.00 Decreased By ▼ -0.10 (-0.83%)
TRG 58.65 Decreased By ▼ -1.38 (-2.3%)
UNITY 9.92 Decreased By ▼ -0.19 (-1.88%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شوگر ملز کے خلاف کسی فرد یا کاشتکار کی رپورٹ پر ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی، کیونکہ شوگر فیکٹریز (کنٹرول) ایکٹ کی دفعہ 21 کے تحت یہ جرم صرف اس وقت قابلِ گرفت سمجھا جائے گا جب باقاعدہ رپورٹ کین کمشنر، ایڈیشنل کین کمشنر یا ان کے نامزد نمائندے کی جانب سے دی جائے۔

یہ فیصلہ عدالت نے ایک فیکٹری منیجر اظہر فضل کی درخواست پر دیا، جس نے ایڈیشنل سیشن جج/ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس کے اُس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں درخواست گزار اور دیگر کے خلاف ہراسانی اور دھمکیوں کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے اس حکم کو شوگر فیکٹریز ایکٹ کے تحت ایف آئی آر کے اندراج تک محدود کرتے ہوئے کالعدم قرار دیا اور ریمارکس دیے کہ جسٹس آف پیس اس قانونی پہلو کو نظرانداز کر گئے۔

البتہ عدالت نے درخواست کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 342 اور 506 کے تحت خارج کرتے ہوئے جسٹس آف پیس کو ہدایت دی کہ مدعی کا بیان ریکارڈ کریں اور قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائیں۔

مدعی کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے شوگر مل کو گنا سپلائی کیا لیکن بار بار مطالبے کے باوجود واجب الادا رقم ادا نہ کی گئی۔ مدعی کے مطابق جب وہ اپنے گواہوں کے ہمراہ جنرل منیجر کے پاس گیا تو ملزم اور دیگر افراد نے اسے تضحیک کا نشانہ بنایا اور اسلحے کے زور پر کمرے میں محبوس کر دیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جسٹس آف پیس کو بھیجی گئی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس وقت تک شوگر مل مالک کی ذمہ داری کا تعین ہی نہیں ہوا تھا، لہٰذا ایسی رپورٹ کو ایکٹ کی دفعہ 21(b) کے تحت باضابطہ رپورٹ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملر کے خلاف کارروائی صرف ایکٹ کے تحت اور اس کی شرائط کے مطابق ہی کی جا سکتی ہے، لیکن جسٹس آف پیس نے اس نکتے کو نظرانداز کیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.