BR100 Increased By (0.89%)
BR30 Increased By (1.25%)
KSE100 Increased By (0.66%)
KSE30 Increased By (0.7%)
BAFL 58.67 Increased By ▲ 0.23 (0.39%)
BIPL 25.43 Increased By ▲ 0.23 (0.91%)
BOP 34.51 Increased By ▲ 0.52 (1.53%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 20.97 Increased By ▲ 0.13 (0.62%)
DGKC 196.09 Increased By ▲ 3.12 (1.62%)
FABL 89.99 Increased By ▲ 0.20 (0.22%)
FCCL 53.37 Increased By ▲ 0.54 (1.02%)
FFL 18.11 Increased By ▲ 0.16 (0.89%)
GGL 19.07 Increased By ▲ 0.10 (0.53%)
HBL 287.15 Increased By ▲ 1.65 (0.58%)
HUBC 215.38 Increased By ▲ 1.00 (0.47%)
HUMNL 10.80 Decreased By ▼ -0.08 (-0.74%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 28.05 Increased By ▲ 0.16 (0.57%)
MLCF 87.51 Increased By ▲ 1.00 (1.16%)
OGDC 322.50 Increased By ▲ 2.54 (0.79%)
PAEL 40.24 Increased By ▲ 0.82 (2.08%)
PIBTL 17.15 Increased By ▲ 0.48 (2.88%)
PIOC 272.00 Increased By ▲ 5.94 (2.23%)
PPL 230.48 Increased By ▲ 2.30 (1.01%)
PRL 34.94 Increased By ▲ 0.26 (0.75%)
SNGP 99.49 Increased By ▲ 0.31 (0.31%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.66 Increased By ▲ 0.38 (4.59%)
TPLP 8.77 Increased By ▲ 0.55 (6.69%)
TRG 70.09 Increased By ▲ 0.38 (0.55%)
UNITY 11.73 Increased By ▲ 0.06 (0.51%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

پولیس نے لاہور میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے دو بیٹوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عمر ایوب نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ خان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے پنجاب پولیس اور موجودہ حکومت کے اقدامات کو ”ظالمانہ“ قرار دے کر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

عمر ایوب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں لکھا ہے کہ ”علیمہ خانم صاحبہ کے دوسرے صاحبزادے شیر شاہ کو تھوڑی دیر قبل پنجاب پولیس نے گرفتار کر لیا۔ ان ظالمانہ اقدامات اور اس ہائبرڈ رجیم کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ یہ لوگ وزیرِاعظم عمران خان، ان کے اہلِ خانہ اور تحریک انصاف کے کارکنوں کو دبا نہیں سکتے۔ ان شاء اللہ، عمران خان ہی پاکستان کے آئندہ وزیرِاعظم ہوں گے۔“

۔

آج نیوز نے جمعہ کے روز رپورٹ کیا ہے کہ شاہریز خان کو 9 مئی کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے انہیں آج (جمعہ) عدالت میں پیش کیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کسی نرمی کے مستحق نہیں۔ ترجمان کے مطابق ”قانون سب کے لیے برابر ہے، اور ملزم کو صبح عدالت میں پیش کیا جائے گا۔“

یاد رہے کہ علیمہ خان نے ایک روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ چار نقاب پوش مسلح افراد نے ان کے بیٹے شہریز کو گھر سے اغوا کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلح افراد سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے اور وہ کچن کے راستے گھر میں داخل ہوئے۔ ان کا بیٹا اوپر والی منزل پر اپنی اہلیہ اور والد کے ساتھ موجود تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسلح افراد نے اہل خانہ کے افراد اور گھر میں موجود ڈرائیوروں کو بھی ہراساں کیا ہے۔

۔

عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ رات لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر سادہ لباس میں ملبوس مسلح افراد نے دھاوا بول دیا، عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا، بہو کو ہراساں کیا اور ان کے بیٹے شاہریز خان کو زبردستی اٹھا کر لے گئے، یہ سب کچھ ان کی دو کم عمر پوتیوں کے سامنے ہوا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں علیمہ خان نے لکھا ہے کہ ”گزشتہ رات، کئی سادہ لباس مسلح افراد نے میرے لاہور والے گھر پر دھاوا بولا۔ انہوں نے عملے کو بری طرح مارا، میری بہو کو ہراساں کیا، اور میرے بیٹے شاہریز خان کو اس کی دو چھوٹی بیٹیوں کے سامنے زبردستی اٹھا کر لے گئے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”گزشتہ تین سال سے یہ فاشسٹ حکومت ملک میں خوف و ہراس کی فضا قائم کیے ہوئے ہے۔ ہزاروں گھروں پر چھاپے مارے جا چکے ہیں، درجنوں بے گناہ شہریوں کو اغوا اور ہراساں کیا گیا ہے۔ لیکن اس تمام ظلم و جبر کے باوجود وہ **عمران خان کو جھکا نہیں سکے۔“

۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے بچے سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی جدوجہد ہم میں سے کسی ایک فرد سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ ان کے بھائی نے ظلم کے مقابلے میں ایک شاندار مثال قائم کی ہے۔ ان بزدلانہ اقدامات نے صرف ظالموں کے خوف اور مایوسی کو آشکار کیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ہم صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی سے حفاظت اور انصاف کے طلبگار ہیں۔

پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں نے بھی عمران خان کے بھانجے کی اس انداز میں گرفتاری پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے انکشاف کیا کہ ان کی بہن نورین نیازی کے بیٹے حسان نیازی کو پہلے ہی 19 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے، جبکہ ان کے بھائی عمران خان 14 سال قید کاٹ رہے ہیں۔

علیمہ خان نے حالیہ گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کو اغوا قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ”جبری گمشدگیوں کا یہ سلسلہ فوری بند کیا جائے۔“

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی شیر شاہ خان کی گرفتاری پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”ایک بیٹے کو کل اغوا کیا گیا اور آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیر شاہ کو بھی فاشسٹ حکومت نے اغوا کر لیا ہے۔ پاکستان میں قانون کی کوئی حکمرانی باقی نہیں رہی۔ عمران خان کے خاندان کو نشانہ بنانا اس حکومت کی مایوسی اور بے شرمی کو ظاہر کرتا ہے۔“

گنڈاپور کا مزید کہنا تھا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے نہ عمران خان کو جھکایا جا سکتا ہے اور نہ تحریک انصاف کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ صرف ایک روز قبل سپریم کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو 9 مئی کے پُرتشدد واقعات سے متعلق 8 مقدمات میں ضمانت دے دی ہے۔

یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو عمران خان کی کرپشن کیس میں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے، جن میں فوجی تنصیبات اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان واقعات کے بعد تحریکِ انصاف کی قیادت اور کارکنان کے خلاف درجنوں مقدمات درج کیے گئے، جن میں دہشت گردی، بغاوت اور جلاؤ گھیراؤ جیسے الزامات شامل ہیں۔

عمران خان، جو 2023 سے جیل میں قید ہیں، ان پر کرپشن، زمینوں کی خردبرد اور سرکاری راز افشا کرنے جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں 9 مئی کے فسادات سے متعلق علیحدہ مقدمات میں بھی عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔

موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے گئے مقدمات سیاسی انتقام کا حصہ ہیں، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور ریاستی اداروں پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے 9 مئی 2023 کے پُرتشدد مظاہروں کو ہوا دی، جن کے دوران مظاہرین نے عسکری اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے، جن میں راولپنڈی میں آرمی ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) اور لاہور میں جناح ہاؤس شامل ہیں۔

تاہم عمران خان نے تمام الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف قائم تمام مقدمات سیاسی انتقام پر مبنی ہیں، جن کا مقصد پی ٹی آئی کو ختم کرنا اور انہیں انتخابات سے باہر رکھنا ہے۔

عمران خان کا مؤقف ہے کہ ”میں نے کوئی غیر قانونی عمل نہیں کیا اور میرے خلاف چلائی جا رہی تمام کارروائیاں ایک منصوبہ بند سیاسی سازش کا حصہ ہیں، تاکہ میری جماعت کو غیر فعال کیا جا سکے۔“

Comments

Comments are closed.