9 مئی فسادات، سپریم کورٹ نے آٹھ مقدمات میں عمران خان کی ضمانت منظور کرلی
- تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کر رہے ہیں نے کیس کی سماعت کی
سپریم کورٹ نے جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کو 9 مئی کے پُرتشدد واقعات سے متعلق آٹھ مقدمات میں ضمانت منظور کرلی۔
آج نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے، نے لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) کا عمران کے خلاف دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ یہ مقدمات 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق تھے۔
اسی دوران، چیف جسٹس آفریدی نے سابق وزیرِاعظم کے وکلا اور دیگر فریقین کو تفصیلی فیصلے کے لیے دوپہر ایک بجے اسپیشل پراسیکیوٹر کے چیمبر میں طلب کرلیا۔
بینچ نے 12 اگست کو یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا عمران خان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست میں لاہور ہائی کورٹ کیس کے میرٹ پر بات کرسکتی ہے؟
دوسری جانب، جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے گزشتہ ماہ قیدِ بامشقت کاٹنے والے سابق وزیرِاعظم کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، اس بنیاد پر کہ وہ 9 مئی 2023 کو اپنی گرفتاری کے پیشِ نظر فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔
عدالت نے شاہ محمود قریشی کو بری کردیا جبکہ متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں سنائیں، جن میں یاسمین راشد بھی شامل ہیں۔
مشکل صورتحال سے دوچار پی ٹی آئی قیادت کو 9 مئی 2023 کے ملک گیر پُرتشدد احتجاج میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر مختلف مقدمات کا سامنا ہے، جو عمران خان کی کرپشن کیس میں گرفتاری کے بعد شروع ہوئے تھے۔
عمران خان، جو 2023 سے جیل میں ہیں اور کرپشن، زمین پر قبضے اور سرکاری راز افشا کرنے جیسے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، کو ان ہی فسادات سے متعلقہ الزامات پر الگ مقدمات میں بھی ٹرائل کا سامنا ہے۔
حکومت نے ان پر اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے 9 مئی 2023 کے احتجاج کو ہوا دی، جس دوران مظاہرین نے فوجی اور سرکاری عمارتوں پر حملہ کیا، جن میں راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز اور لاہور میں جناح ہاؤس شامل ہیں۔
سابق وزیرِاعظم عمران خان تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی انتقام پر مبنی ہیں تاکہ ان کی جماعت کو توڑا جا سکے۔


Comments
Comments are closed.