وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے پیر کے روز اسلام آباد میں اپنے فلیگ شپ منصوبے ”اڑان پاکستان“ کے تحت “ اڑان اے آئی ٹیکتھون 1.0“ کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو حقیقی دنیا کے چیلنجز پر لاگو کرنے کے لیے متحرک کرنا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ یہ ٹیکتھون اڑان پاکستان نیشنل انوویشن مشن کا حصہ ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے شعبوں میں قومی استعداد کار کو فروغ دینا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں پاکستان کی عالمی سطح پر موجودگی کو نمایاں کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک مقابلہ نہیں بلکہ ایک تحریکی عمل ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور معیشت کے کلیدی شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔“ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت پہلے ہی صحت، تعلیم، زراعت، صنعت اور طرزِ حکمرانی جیسے شعبوں کو یکسر بدل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے انقلاب کا تماشائی نہیں، بلکہ ایک ابھرتا ہوا رہنما بنے گا۔
وزیر موصوف نے رجسٹریشن، رابطہ کاری اور وسائل کے لیے ایک مخصوص آن لائن پورٹل کے آغاز کا اعلان کیا اور یقین دہانی کرائی کہ محروم اور دور دراز علاقوں سے جامع شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام وژن 2025 اور دیگر شعبہ جاتی حکمت عملیوں کے عین مطابق ہے۔
احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی توجہ صحت، تعلیم، زراعت اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے جدید حل فراہم کرنا ہے، جس میں مقامی اسٹارٹ اپس، جامعات اور ٹیکنالوجی پارکس مرکزی کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کو نصاب میں شامل کیا جا رہا ہے اور قومی صلاحیتوں کی ترقی کے لیے تربیت، رہنمائی اور سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کیے جا رہے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ اڑان اے آئی ٹیکتھون 1.0 جیسے اقدامات کے ذریعے ہم نہ صرف جدت کو پروان چڑھا رہے ہیں بلکہ پاکستان کو 2035 تک ٹریلین ڈالر معیشت کی جانب گامزن کر رہے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر انہوں نے نوجوان انوویٹرز( مخترعین) سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور ثابت کریں کہ ان کا وژن اور تخلیقی صلاحیتیں دنیا کے بہترین معیار کے برابر ہیں۔


Comments
Comments are closed.