BR100 Increased By (1.02%)
BR30 Increased By (1.71%)
KSE100 Increased By (0.58%)
KSE30 Increased By (0.65%)
BAFL 58.65 Increased By ▲ 0.21 (0.36%)
BIPL 25.45 Increased By ▲ 0.25 (0.99%)
BOP 34.23 Increased By ▲ 0.24 (0.71%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 197.81 Increased By ▲ 4.84 (2.51%)
FABL 89.78 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
FCCL 53.80 Increased By ▲ 0.97 (1.84%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.95 Increased By ▲ 0.98 (5.17%)
HBL 286.00 Increased By ▲ 0.50 (0.18%)
HUBC 215.78 Increased By ▲ 1.40 (0.65%)
HUMNL 11.00 Increased By ▲ 0.12 (1.1%)
KEL 8.07 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
LOTCHEM 27.59 Decreased By ▼ -0.30 (-1.08%)
MLCF 87.90 Increased By ▲ 1.39 (1.61%)
OGDC 324.25 Increased By ▲ 4.29 (1.34%)
PAEL 39.95 Increased By ▲ 0.53 (1.34%)
PIBTL 17.32 Increased By ▲ 0.65 (3.9%)
PIOC 273.90 Increased By ▲ 7.84 (2.95%)
PPL 233.49 Increased By ▲ 5.31 (2.33%)
PRL 34.98 Increased By ▲ 0.30 (0.87%)
SNGP 99.70 Increased By ▲ 0.52 (0.52%)
SSGC 27.20 Increased By ▲ 0.60 (2.26%)
TELE 8.57 Increased By ▲ 0.29 (3.5%)
TPLP 8.78 Increased By ▲ 0.56 (6.81%)
TRG 71.50 Increased By ▲ 1.79 (2.57%)
UNITY 11.66 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

امریکی تجارتی مذاکرات کاروں کا نئی دہلی کا دورہ، جو 25 سے 29 اگست تک ہونا تھا، منسوخ کر دیا گیا ہے جس کے باعث مجوزہ تجارتی معاہدے پر بات چیت مؤخر ہو گئی ہے اور 27 اگست سے بھارتی مصنوعات پر اضافی امریکی ٹیرف سے نجات کی امیدیں ختم ہو گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق دوطرفہ تجارتی معاہدے کے موجودہ دور کے مذاکرات اب کسی اور تاریخ تک مؤخر کیے جانے کا امکان ہے جو ابھی طے نہیں کی گئی۔

نئی دہلی میں امریکی سفارتخانے نے کہا کہ اس کے پاس تجارت اور ٹیرف سے متعلق بات چیت پر کوئی اضافی معلومات نہیں ہیں کیونکہ یہ معاملہ امریکی تجارتی نمائندہ (یو ایس ٹی آر) کے زیر انتظام ہے۔

بھارتی وزارتِ تجارت نے رائٹرز کے ای میل پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

اس سے قبل اس ماہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر دیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ نئی دہلی روسی تیل کی درآمدات جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یہ نیا درآمدی ٹیکس، جو 27 اگست سے نافذ ہوگا، بھارتی برآمدات پر ٹیرف کو بڑھا کر 50 فیصد تک کر دے گا، جو امریکا کے کسی بھی تجارتی شراکت دار پر عائد کیے گئے بلند ترین ٹیرف میں شامل ہے۔

نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی مذاکرات پانچ دور کی ناکامی کے بعد تعطل کا شکار ہوگئے تھے کیونکہ بھارت نے اپنے وسیع زرعی اور ڈیری شعبے کو کھولنے اور روسی تیل کی خریداری روکنے سے انکار کیا تھا۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک کو روسی تیل خریدنے پر بلاجواز نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ امریکا اور یورپی یونین خود روس سے اشیا کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Comments

Comments are closed.