پاکستان ایک نئی فوجی فورس تشکیل دے گا جو روایتی جنگ میں میزائل جنگی صلاحیتوں کی نگرانی کرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کی رات اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران آرمی راکٹ فورس کے قیام کا اعلان کیا، یہ تقریب مئی میں بھارت کے ساتھ دہائیوں کے بدترین تصادم کی یاد میں منعقد کی گئی۔
یہ تقریب پاکستان کے 78ویں یومِ آزادی سے ایک روز قبل منعقد ہوئی۔
وزیر اعظم نے اپنے دفتر سے جاری بیان میں کہا کہ یہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی، اور مزید کہا کہ یہ فورس پاکستان کی فوجی جنگی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔
انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
تاہم ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ اس فورس کا فوج میں اپنا الگ کمانڈ ہوگا، جو کسی بھی روایتی جنگ کی صورت میں میزائلوں کی تعیناتی اور استعمال کا ذمہ دار ہوگا۔
انہوں نے کہا: ”یہ واضح ہے کہ یہ بھارت کے لیے ہے۔“
دونوں ایٹمی قوتیں اپنی فوجی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرتی رہی ہیں کیونکہ 1947 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد سے ان کے درمیان دیرینہ حریفانہ تعلقات ہیں۔
تازہ ترین کشیدگی اپریل میں اس وقت بڑھی جب بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں 26 شہری مارے گئے، جس حملے کا الزام نئی دہلی نے اسلام آباد پر لگایا۔ پاکستان نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔
مئی میں دونوں ممالک کے درمیان تصادم بھڑک اٹھا، جو دہائیوں میں سب سے سنگین لڑائی تھی، جس میں دونوں طرف سے میزائل، ڈرونز اور لڑاکا طیارے استعمال ہوئے، اور آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان پر ختم ہوئی۔
اسلام آباد نے امریکی کردار کو تسلیم کیا، لیکن بھارت نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی براہِ راست دونوں افواج کے درمیان طے پائی تھی۔

Comments
Comments are closed.