قومی اسمبلی نے بدھ کے روز انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2024 کو اکثریتی ووٹوں سے منظور کر لیا ہے۔ بل میں جے یو آئی (ف) کی رکن عالیہ کامران کی پیش کردہ ترامیم کو مسترد کر دیا گیا جبکہ پیپلز پارٹی کے رکن سید نوید قمر کی ایک ترمیم کو شامل کر لیا گیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ و انسداد منشیات طلال چوہدری نے 1997 کے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں مزید ترامیم کے لیے یہ بل ایوان میں پیش کیا۔ بعدازاں ایوان نے بل کی شق وار منظوری دی۔
اس سے قبل بل پر غور کے لیے پیش کی گئی تحریک کو ایوان نے 125 ووٹوں کی حمایت اور 59 مخالفت کے ساتھ منظور کیا۔
بل کے اغراض و مقاصد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ سیکورٹی صورتِ حال ایک ایسے مؤثر ردعمل کا تقاضا کرتی ہے جو موجودہ قانونی فریم ورک سے آگے بڑھ کر ہو۔
اس مقصد کے لیے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی شق 11 فور ای کو دوبارہ قانون میں شامل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ حکومت، مسلح افواج اور نیم فوجی دستوں کو ایسے افراد کو حراست میں لینے کا اختیار حاصل ہو جو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہوں۔
یہ شق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قابلِ اعتبار معلومات یا معقول شبہ کی بنیاد پر احتیاطی حراست میں لینے کی اجازت دے گی، تاکہ دہشت گردی کی سازشوں کو عملی جامہ پہنائے جانے سے پہلے ہی ناکام بنایا جا سکے۔
اس ترمیم سے اداروں کو دہشت گردی کے خلاف زیادہ موثر کارروائیوں کے لیے قانونی سہارا بھی حاصل ہو گا۔
مزید یہ کہ بل کے تحت مشترکہ تفتیشی ٹیموں (جے آئی ٹیز) کے استعمال کو بھی فروغ ملے گا، جن میں قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے تاکہ مربوط تحقیقات اور قابلِ عمل انٹیلی جنس معلومات حاصل کی جا سکیں۔
علاوہ ازیں قومی اسمبلی نے بدھ کو دو مزید بل بھی منظور کیے، جن میں نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (ترمیمی) بل 2025 اور پیٹرولیم (ترمیمی) بل 2025 شامل ہیں۔ یہ دونوں بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں منظور کیے گئے ہیں۔
بل ایوان میں پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز نے پیش کیے۔


Comments
Comments are closed.