نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لَکسَن نے بدھ کو کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ہوش کھو دیا ہے جبکہ انکا ملک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے۔
کرسٹوفر لَکسَن نے صحافیوں سے گفتگو میں غزہ میں انسانی امداد کی کمی، جبری بے دخلی اور علاقے کے الحاق کو انتہائی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو حد سے زیادہ آگے بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے غزہ سٹی پر حالیہ حملے کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔
کرسٹوفر لَکسَن نے رواں ہفتے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ قریبی اتحادی آسٹریلیا نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں یہ قدم اٹھائے گا۔
برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی اتحادیوں نے منگل کو اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں امداد کی ترسیل پر پابندیاں ختم کرے۔
بدھ کو پارلیمان کے اجلاس سے قبل چند مظاہرین نے عمارت کے باہر برتن بجا کر احتجاج کیا اور نعرہ لگایا: اراکین ہمت دکھائیں، فلسطین کو تسلیم کریں۔
منگل اور بدھ کو گرینز پارٹی کی رکن پارلیمنٹ کلویی سواربریک کو اسرائیل پر پابندی کے بل کی مخالفت کرنے والے حکومتی اراکین کو بے ریڑھ کی ہڈی قرار دینے پر معافی نہ مانگنے کے باعث ایوان سے نکال دیا گیا۔


Comments
Comments are closed.