BR100 Decreased By (-0.26%)
BR30 Decreased By (-0.53%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

ریگولیٹری اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح کی ذیلی کمیٹی نے کمپنیز ایکٹ 2017 میں نمایاں ترامیم کی سفارش کی ہے تاکہ پاکستان کے کارپوریٹ نظام کو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

یہ تجاویز پیر کے روز ایک اجلاس میں زیرِ بحث آئیں، جس کی صدارت وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے کی۔ اجلاس کے حوالے سے ایک سرکاری پریس ریلیز بھی جاری کی گئی۔

اجلاس میں اسکاٹ جیکبز کے علاوہ بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (سی ای سی پی) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے نمائندے شریک ہوئے۔

حکام کے مطابق اجلاس میں ایس ای سی پی اور بی او آئی نے کمپنیز ایکٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مشترکہ طور پر سفارشات کا ایک پیکیج پیش کیا۔

اراکین کی تعداد کی حد ختم کرنے، کارپوریٹ اسٹرکچر میں لچک اور غیر ضروری پابندیاں ختم کرنے کی تجاویز

ذیلی کمیٹی کی پیش کردہ اہم تجاویز میں شامل ہیں: نجی اور عوامی کمپنیوں میں اراکین کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ تعداد کی حد ختم کرنا، کارپوریٹ اسٹرکچر میں زیادہ لچک متعارف کرانا اور ایسے قوانین و ضوابط کو ختم کرنا جو غیر ضروری پابندیاں پیدا کرتے ہیں۔

اس موقع پر وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ متفقہ سفارشات کو بلا تاخیر مسودے کی شکل دی جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ضروری ریگولیشنز، طریقہ کار میں تاخیر، اور کاروبار میں آسانی کے خلاف رکاوٹیں ملک میں کاروباری اداروں کے لیے سنگین چیلنجز بن چکی ہیں۔

ہارون اختر نے مزید کہا کہ موجودہ قانون کی کئی دفعات فرسودہ ہو چکی ہیں اور یہ جدید کارپوریٹ ڈھانچوں میں جدت کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

Comments

Comments are closed.