پاکستان مارٹ پراجیکٹ ایک انقلابی اور جدید اقدام ہے جو پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے ایک ہمہ گیر پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ یہ منصوبہ ملکی برآمدات کو فروغ دینے اور ”میڈ اِن پاکستان“ برانڈ کی عالمی سطح پر شناخت کو اجاگر کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہارنیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل فرخ شہزاد نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایک پریزنٹیشن کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مارٹ ایک گیم چینجر منصوبہ ثابت ہوگا جو برآمدکنندگان کو بین الاقوامی خریداروں سے براہِ راست منسلک کرے گا اور مڈل مین کے کردار کو ختم کر کے برآمدی عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ جدید سہولت دبئی کے تجارتی مرکز کے قلب میں قائم کی جائے گی جہاں سے مشرقِ وسطیٰ، افریقہ، جنوبی امریکہ سمیت دیگر اہم منڈیوں تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔
ڈی جی این ایل سی کے مطابق یہ منصوبہ نیشنل لاجسٹکس سیل اور ڈی پی ورلڈ کے اشتراک سے مکمل کیا جا رہا ہے، جہاں دونوں ادارے اپنی تکنیکی و انتظامی صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہوئے ایک مؤثر اور پائیدار تجارتی پلیٹ فارم فراہم کریں گے۔
لاہور چیمبر کے صدر میاں ابوزر شاد نے کہا کہ پاکستان مارٹ جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ پاکستانی صنعتکاروں اور برآمد کنندگان کو عالمی معیار کی سہولیات میسر آسکیں۔ انہوں نے اسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کے لیے ایک بین الاقوامی لانچنگ پیڈ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت امیج کو بھی فروغ دے گا۔
نائب صدر شاہد چوہدری نے کہا کہ لاہور چیمبر این ایل سی کے ساتھ مل کر پاکستان مارٹ منصوبے پر آگاہی سیشنز کے انعقاد کے لیے تیار ہے تاکہ اپنے اراکین میں اس منصوبے سے متعلق شعور اجاگر کیا جاسکے اور انہیں یہ رہنمائی فراہم کی جاسکے کہ وہ اس موقع سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
تقریب سے ڈی پی ورلڈ دبئی کے سی ای او عبداللہ ہاشمی، معروف شخصیت فخرِ عالم اور ایل سی سی آئی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کرامت علی اعوان اور عمران سلیمی نے بھی خطاب کیا اور منصوبے کو سراہا۔


Comments
Comments are closed.