BR100 Decreased By (-0.65%)
BR30 Decreased By (-1.22%)
KSE100 Decreased By (-0.51%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 56.90 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.10 Decreased By ▼ -0.25 (-0.82%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.85 Decreased By ▼ -4.60 (-2.39%)
FABL 93.74 Decreased By ▼ -0.40 (-0.42%)
FCCL 51.99 Decreased By ▼ -0.80 (-1.52%)
FFL 14.48 Decreased By ▼ -0.24 (-1.63%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 305.50 Decreased By ▼ -0.60 (-0.2%)
HUBC 199.95 Decreased By ▼ -1.47 (-0.73%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.30 Decreased By ▼ -0.16 (-0.6%)
MLCF 91.40 Decreased By ▼ -1.76 (-1.89%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.15 Decreased By ▼ -0.48 (-1.35%)
PIBTL 14.67 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.49 Decreased By ▼ -4.42 (-1.95%)
PRL 91.24 Decreased By ▼ -1.78 (-1.91%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.21 Decreased By ▼ -0.60 (-2.52%)
TELE 7.57 Decreased By ▼ -0.23 (-2.95%)
TPLP 12.69 Decreased By ▼ -0.28 (-2.16%)
TRG 56.30 Decreased By ▼ -0.26 (-0.46%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے دیوالیہ قانون میں مجوزہ اصلاحات ایک جامع اور معاون قانونی فریم ورک فراہم کریں گی، جو صنعتی استحکام کو یقینی بنانے اور مشکلات سے دوچار صنعتوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے یہ بات دیوالیہ قانون اور ریاستی اداروں کی جانب سے غیر ضروری ہراسانی کی روک تھام سے متعلق ذیلی کمیٹیوں کے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس کی تفصیلات ایک پریس ریلیز میں جاری کی گئیں۔

اجلاس میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل، پاکستان بزنس کونسل، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سسا)، مختلف چیمبرز آف کامرس، اینٹی منی لانڈرنگ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں کارپوریٹ بحالی ایکٹ 2018 میں مجوزہ ترامیم پر غور کیا گیا، جن میں درج ذیل اہم نکات شامل تھے: واجبات کی بنیاد پر اہلیت کی حد ختم کرنا، عدالتی احکامات کے ذریعے اسٹے آرڈرز کا باقاعدہ طریقہ کار وضع کرنا، ونڈنگ اپ آرڈرز کا سامنا کرنے والی کمپنیوں کے لیے ریلیف کی فراہمی،اسٹیٹ بینک کے سرکلر نمبر 29 کے تحت ریلیف حاصل کرنے والی کمپنیوں کو شامل کرنا اور اثاثہ جات کی قیمت کے تعین اور ثالثی کا جامع نظام متعارف کرانا۔

اجلاس میں کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنیز ایکٹ 2016 کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ کارپوریٹ بحالی بورڈ کی فعالیت میں تاخیر کی بڑی وجوہات سخت تعیناتی معیار اور بجٹ میں کمی ہیں۔

اس موقع پر ہارون اختر خان نے کہا کہ ”یہ اصلاحات بینکوں اور قرض دہندگان کو ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت مل کر کام کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گی۔“

اجلاس میں ادارہ جاتی ہراسانی کی روک تھام سے متعلق ذیلی کمیٹی نے تجویز دی کہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی خودمختاری کے تحفظ اور غیر سیاسی، مداخلت سے پاک ماحول میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے۔

اس موقع پر معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ ”وزیراعظم شہباز شریف کا وژن واضح ہے: بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی اور ریاستی اداروں کی غیر ضروری ہراسانی کا خاتمہ۔“ انہوں نے ذیلی کمیٹیوں کی کاوشوں اور کاروبار دوست اصلاحات کے لیے ان کی وابستگی کو سراہا۔

Comments

Comments are closed.