ایک حکومتی ذریعے نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سات سال سے زائد عرصے بعد پہلی بار چین کا دورہ کریں گے، جو بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق مودی 31 اگست سے شروع ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے چینی شہر تیانجن جائیں گے۔ اجلاس ایک کثیر الجہتی پلیٹ فارم ہے جس میں روس سمیت یوریشیائی سیاسی و سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
نریندر مودی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں کئی برسوں کی سب سے سنگین کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے درآمدی اشیاء پر ایشیا میں سب سے زیادہ تجارتی ٹیرف عائد کر دیے ہیں اور روس سے تیل کی خریداری پر بھارت کو مزید غیر واضح ”سزا“ دینے کی دھمکی بھی دی ہے۔
مودی کا جون 2018 کے بعد یہ چین کا پہلا دورہ ہو گا جب انہوں نے آخری بار شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ اس کے بعد 2020 میں ہمالیائی سرحد پر جھڑپوں کے نتیجے میں بھارت اور چین کے تعلقات شدید متاثر ہوئے تھے۔
گزشتہ برس اکتوبر میں روس میں منعقدہ برکس (بی آر آئی سی ایس) سربراہی اجلاس کے موقع پر نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات نے کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کی ہے۔ اب یہ دونوں ایشیائی ہمسائے آہستہ آہستہ تناؤ کم کر رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعلقات اور سفر بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس اتحاد میں شامل ممالک، جن میں بھارت بھی شامل ہے، پر اضافی 10 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ممالک ”امریکہ مخالف پالیسیوں کے ساتھ خود کو منسلک کر رہے ہیں۔“
ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ روس سے تیل کی خریداری پر بھارت کے خلاف سزا کا فیصلہ اُس وقت کیا جائے گا جب یوکرین جنگ میں جنگ بندی لانے کے لیے امریکی سفارتی کوششوں کا نتیجہ سامنے آئے گا۔
صدر ٹرمپ کے اعلیٰ سفارتی نمائندے اسٹیو وٹکوف اس وقت ماسکو میں موجود ہیں، جہاں وہ اُس ڈیڈلائن سے محض دو روز قبل مذاکرات کر رہے ہیں جو صدر ٹرمپ نے روس کو یوکرین میں امن معاہدہ طے کرنے کے لیے دی تھی، بصورتِ دیگر روس کو نئی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔
اسی دوران بھارت کے مشیرِ قومی سلامتی اجیت دوول بھی اپنے طے شدہ دورے پر روس میں موجود ہیں۔
ایک حکومتی ذریعے کے مطابق، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے، دوول اس دورے کے دوران روسی تیل کی خریداری سے متعلق بھارت کا موقف واضح کریں گے کیونکہ صدر ٹرمپ بھارت پر اس تجارت کو بند کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دوول اپنے روسی ہم منصب سے دفاعی تعاون پر بھی بات کریں گے، جن میں روسی ساختہ ایس 400 فضائی دفاعی نظام کی بھارت کو تیز تر فراہمی کا معاملہ اور صدر ولادیمیر پوٹن کے ممکنہ دورۂ بھارت پر بات چیت شامل ہے۔
اجیت دوول کے اس دورے کے بعد بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی آنے والے ہفتوں میں روس کا دورہ کریں گے۔
امریکی اور بھارتی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی (امریکہ) اور پانچویں بڑی (بھارت) معیشت کے درمیان 190 ارب ڈالر سے زائد کے دوطرفہ تجارتی تعلقات کے باوجود سیاسی غلط فہمیوں، اشاروں کو نظرانداز کرنے اور باہمی تلخیوں نے تجارتی معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی ہیں۔
رائٹرز کو حاصل معلومات کے مطابق بھارتی حکومت کے ایک اندرونی تخمینے میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے نئی پابندیوں کے نتیجے میں بھارت کو امریکا میں بھیجی جانے والی تقریباً 64 ارب ڈالر مالیت کی برآمدات، جو اس کی کل امریکی برآمدات کا 80 فیصد بنتی ہیں، پر مسابقتی برتری کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔
تاہم، 4 ٹریلین ڈالر مالیت کی بھارتی معیشت میں برآمدات کا حصہ نسبتاً کم ہونے کی وجہ سے، ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کے مجموعی معاشی نمو پر براہِ راست اثرات محدود ہوں گے۔
بدھ کے روز بھارتی مرکزی بینک (ریزرو بینک آف انڈیا) نے مالی سال اپریل تا مارچ 2024–25 کے لیے معاشی نموکی پیش گوئی 6.5 فیصد پر برقرار رکھی اور شرحِ سود میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی، اگرچہ امریکی محصولات میں ممکنہ اضافے سے غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کے ابتدائی تجزیے میں روس سے تیل کی خریداری پر 10 فیصد اضافی جرمانہ شامل کیا گیا ہے، جس سے امریکی محصولات کی مجموعی شرح 35 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
بھارتی وزارتِ تجارت نے اس معاملے پر رائٹرز کے تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
تمام چار ذرائع نے کہا ہے کہ یہ داخلی تجزیہ ابتدائی ہے اور صدر ٹرمپ کی طرف سے محصولات کے حتمی اعلان کے بعد اس میں رد و بدل ممکن ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں بھارت نے امریکہ کو تقریباً 81 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء برآمد کیں۔


Comments
Comments are closed.