وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی نصف سے زائد بیوروکریسی پرتگال میں جائیدادیں حاصل کر چکی ہے اور اب وہاں کی شہریت حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ”ہماری پیاری سرزمین کی بیوروکریسی کی اکثریت نے پہلے ہی پرتگال میں جائیداد حاصل کر لی ہے اور شہریت کے حصول کی تیاری کر رہی ہے۔“
خواجہ آصف کے مطابق ”یہ سب معروف بیوروکریٹس ہیں، جنہوں نے اربوں روپے ہضم کر کے اب ریٹائرمنٹ کی زندگی سکون سے گزارنا شروع کر دی ہے۔“
انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا حوالہ دیتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ ”بزدار کے قریبی بیوروکریٹس میں سے ایک نے صرف بیٹیوں کی شادیوں پر سلامی کے طور پر چار ارب روپے جمع کیے اور اب آرام سے ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہے۔“
سیاست دانوں پر تنقید کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ”سیاستدان صرف باقی بچا کچھ کھاتے ہیں اور شور مچاتے ہیں، ان کے پاس نہ پلاٹ ہوتے ہیں نہ غیر ملکی شہریت، کیونکہ انہیں انتخابات لڑنے ہوتے ہیں۔ یہ بیوروکریسی پاکستان کی مقدس سرزمین کو آلودہ کر رہی ہے۔“
جس کے جواب میں صحافی شمع جونیجو نے لکھا کہ ”جناب! آپ وزیرِ دفاع ہیں، آپ کا کام ٹویٹ کرنا نہیں، بلکہ کارروائی کرنا ہے۔ کیا اس ملک میں کوئی قانون موجود نہیں جو ان بیوروکریٹس سے تفتیش کرے کہ سرکاری تنخواہ پر اربوں روپے کہاں سے کمائے گئے، جن سے پرتگال اور دیگر ممالک میں جائیدادیں بنائی گئیں؟“
یہ پہلا موقع نہیں کہ خواجہ آصف نے سرکاری افسران کی مبینہ کرپشن پر روشنی ڈالی ہو۔
2023 میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک بیوروکریٹ کی بیٹی نے اپنی شادی میں بطور ”سلامی“، وہ روایتی رقم جو دولہا اور دلہن کو بطور تحفہ دی جاتی ہے، 72 کروڑ روپے وصول کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس لڑکی کا والد ایک گریڈ 21 یا 22 کا افسر تھا، مگر آج تک اس کی آمدنی کے ذرائع کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔


Comments
Comments are closed.