پی سی بی کا ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں آئندہ شرکت پر مکمل پابندی کا فیصلہ
- پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹورنامنٹ سے باہر رکھنا اور سیاسی بنیادوں پر فیصلے لینا قابل مذمت ہے، بیان
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے حال ہی میں ختم ہونے والی ”ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز“ (ڈبلیو سی ایل) میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور سیاسی جانبداری کے باعث مستقبل میں کھلاڑیوں کی اس ٹورنامنٹ میں شرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
ایک سرکاری بیان میں پی سی بی نے منتظمین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹورنامنٹ سے باہر رکھنا اور سیاسی بنیادوں پر فیصلے لینا قابل مذمت ہے، خاص طور پر اس وقت جب بھارتی ٹیم نے پاکستان کے خلاف اپنے شیڈول میچز کھیلنے سے انکار کر دیا۔
پی سی بی نے ڈبلیو سی ایل کی جانب سے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر کی گئی معذرت کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بیان سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو نکالنے کا فیصلہ کرکٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک مخصوص قوم پرستانہ بیانیے کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا۔
پی سی بی کے بیان میں کہا گیا کہ یہ جانبداری، جو حساسیت کے لبادے میں چھپی ہوئی ہے، بین الاقوامی کھیلوں کے حلقوں میں ناقابل قبول پیغام بھیجتی ہے۔
مزید کہا گیا کہ سیاسی بنیادوں پر کیے گئے فیصلے بین الاقوامی کھیلوں کی غیرجانبداری اور ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور ایسے ماحول میں شرکت پاکستانی کھلاڑیوں کے وقار کے خلاف ہے اور مستقبل کے مقابلوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
اس مسئلے پر پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کے ورچوئل اجلاس میں تفصیل سے غور کیا گیا، جس میں سمیر احمد سید، سلمان نذیر، ظہیر عباس، زاہد اختر زمان، سجاد علی کھوکھر، ظفر اللہ جدگل، تنویر احمد، طارق سرور، محمد اسماعیل قریشی، انور احمد خان، عدنان ملک، عثمان وھلہ (خصوصی دعوت پر شرکت) اور میر حسن نقوی (ایڈیشنل سیکریٹری) نے شرکت کی۔
یاد رہے کہ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے دوران بھارتی ٹیم نے صرف ایک میچ کھیلا جبکہ گروپ اسٹیج کے دونوں میچز میں پاکستان کا سامنا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا، جس پر پی سی بی نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ کرکٹ تعلقات 2008 سے معطل ہیں، سوائے 2012 کی ایک مختصر سیریز کے جس میں شاہد آفریدی کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے بھارت کا دورہ کیا اور سیریز اپنے نام کی۔
پی سی بی نے کھیل کی حرمت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں سیاسی رنگ آمیزی کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرے گا۔


Comments
Comments are closed.