BR100 Increased By (0.81%)
BR30 Increased By (1.06%)
KSE100 Increased By (0.56%)
KSE30 Increased By (0.59%)
BAFL 58.72 Increased By ▲ 0.28 (0.48%)
BIPL 25.54 Increased By ▲ 0.34 (1.35%)
BOP 34.36 Increased By ▲ 0.37 (1.09%)
CNERGY 8.14 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
DFML 20.99 Increased By ▲ 0.15 (0.72%)
DGKC 195.51 Increased By ▲ 2.54 (1.32%)
FABL 89.98 Increased By ▲ 0.19 (0.21%)
FCCL 53.60 Increased By ▲ 0.77 (1.46%)
FFL 18.05 Increased By ▲ 0.10 (0.56%)
GGL 19.25 Increased By ▲ 0.28 (1.48%)
HBL 287.01 Increased By ▲ 1.51 (0.53%)
HUBC 215.40 Increased By ▲ 1.02 (0.48%)
HUMNL 10.85 Decreased By ▼ -0.03 (-0.28%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.90 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
MLCF 87.46 Increased By ▲ 0.95 (1.1%)
OGDC 322.80 Increased By ▲ 2.84 (0.89%)
PAEL 39.98 Increased By ▲ 0.56 (1.42%)
PIBTL 17.08 Increased By ▲ 0.41 (2.46%)
PIOC 270.05 Increased By ▲ 3.99 (1.5%)
PPL 229.40 Increased By ▲ 1.22 (0.53%)
PRL 34.85 Increased By ▲ 0.17 (0.49%)
SNGP 99.47 Increased By ▲ 0.29 (0.29%)
SSGC 26.90 Increased By ▲ 0.30 (1.13%)
TELE 8.70 Increased By ▲ 0.42 (5.07%)
TPLP 8.74 Increased By ▲ 0.52 (6.33%)
TRG 70.14 Increased By ▲ 0.43 (0.62%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے بدھ کے روز پیشگوئی کی ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے، جس سے ذخائر 17.5 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ اضافہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب پاکستان کو اسی مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 25.9 ارب ڈالر کی غیر ملکی قرض ادائیگیاں کرنی ہیں، جن میں رول اوورز بھی شامل ہیں۔

جمیل احمد نے مزید کہا کہ اگر پاکستان عالمی کیپٹل مارکیٹ میں یوروبانڈ کے ذریعے نیا قرض حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو ذخائر کی سطح ہدف سے بھی بلند ہو سکتی ہے۔ وہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جہاں مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام پر زرمبادلہ ذخائر 14.5 ارب ڈالر کی سطح پر موجود تھے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے توقع ظاہر کی کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.25 فیصد سے 4.25 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اسی مالی سال کے لیے پاکستان کی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔

گورنر نے مزید کہا ہے کہ زرعی پیداوار کی بحالی اور صنعتی و خدماتی شعبوں میں بہتری کا تسلسل ملک کی معاشی نمو کو سہارا دے گا۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کے 0 تا 1 فیصد کی حد میں رہنے کی توقع ہے، اس مالی سال 2025 میں ریکارڈ ہونے والے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کا دور ختم ہو جائے گا۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے مشاہدہ کیا ہے کہ مالی سال 2026 کے دوران سالانہ مہنگائی کی شرح عمومی طور پر 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، تاہم بعض مہینوں میں یہ بالائی حد سے تجاوز بھی کر سکتی ہے۔

ایم پی سی نے زور دیا ہے کہ مہنگائی کی صورت حال کئی بیرونی و اندرونی خطرات سے متاثر ہو سکتی ہے، جن میں عالمی سطح پر کموڈیٹی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی سرگرمیوں کی غیر یقینی صورت حال، توانائی کی قیمتوں میں متوقع حکومتی ایڈجسٹمنٹ اور ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر سیلاب شامل ہیں۔

Comments

Comments are closed.