BR100 Decreased By (-0.7%)
BR30 Decreased By (-1.27%)
KSE100 Decreased By (-0.52%)
KSE30 Decreased By (-0.51%)
BAFL 56.86 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
BIPL 24.91 Decreased By ▼ -0.05 (-0.2%)
BOP 30.16 Decreased By ▼ -0.19 (-0.63%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.38 Decreased By ▼ -5.07 (-2.63%)
FABL 93.85 Decreased By ▼ -0.29 (-0.31%)
FCCL 52.25 Decreased By ▼ -0.54 (-1.02%)
FFL 14.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.88%)
GGL 19.14 Decreased By ▼ -0.42 (-2.15%)
HBL 306.88 Increased By ▲ 0.78 (0.25%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.49 Decreased By ▼ -1.67 (-1.79%)
OGDC 314.00 Decreased By ▼ -2.73 (-0.86%)
PAEL 35.14 Decreased By ▼ -0.49 (-1.38%)
PIBTL 14.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 240.89 Decreased By ▼ -2.32 (-0.95%)
PPL 222.35 Decreased By ▼ -4.56 (-2.01%)
PRL 91.24 Decreased By ▼ -1.78 (-1.91%)
SNGP 90.82 Decreased By ▼ -1.02 (-1.11%)
SSGC 23.13 Decreased By ▼ -0.68 (-2.86%)
TELE 7.71 Decreased By ▼ -0.09 (-1.15%)
TPLP 12.62 Decreased By ▼ -0.35 (-2.7%)
TRG 56.49 Decreased By ▼ -0.07 (-0.12%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے ایک بار پھر تمام شوگر مل مالکان اور برآمد کنندگان کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

پی اے سی کے اجلاس کی صدارت جنید اکبر نے کی۔

کمیٹی اراکین نے چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا کیونکہ کراچی میں چینی 210 روپے اور ہری پور میں 215 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے جب کہ ملک بھر میں اوسط قیمت 173 روپے فی کلو ہے۔

اجلاس کے دوران وزارتِ صنعت کے حکام نے شوگر ملز مالکان کے نام ظاہر کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، جس پر کمیٹی کے چیئرمین کو ہدایت جاری کرنا پڑی کہ شوگر ملوں کے مالکان کے نام اور ڈائریکٹرشپ کی تفصیلات فوری طور پر جمع کرائی جائیں۔

چیئرمین پی اے سی نے خبردار کیا کہ اگر جلد از جلد فہرست جمع نہ کرائی گئی تو استحقاق کی تحریک پیش کی جائے گی۔ سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو بھی چینی کی پیداوار، برآمد اور قیمتوں سے متعلق مبینہ طور پر غلط اعداد و شمار پیش کرنے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

وزارتِ صنعت کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 10 سال کے دوران 50 لاکھ 90 ہزار ٹن چینی کی برآمد کی منظوری دی گئی تاہم حقیقت میں صرف 39 لاکھ 27 ہزار ٹن چینی برآمد کی گئی جس سے 400 ملین ڈالر سے زائد زرمبادلہ حاصل ہوا۔

حکام کے مطابق پاکستان نے گزشتہ سال 76 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی پیدا کی جس میں 13 لاکھ میٹرک ٹن فاضل مقدار شامل تھی۔

اس میں سے 5 لاکھ ٹن چینی آئندہ سال کے لیے محفوظ کی گئی جبکہ حکومت نے 79 لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی 3 مراحل میں منظوری دی۔

برآمد کے وقت مقامی منڈی میں چینی کی قیمت 143 روپے فی کلو تھی، جو اب بڑھ کر 173 روپے ہو چکی ہے۔ قانون سازوں نے چینی کی برآمد اور درآمد کے جاری سلسلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے دہائیوں پر محیط ایک دھوکہ قرار دیا۔

کمیٹی اراکین ریاض فتیانہ اور محمد ارشد نے الزام عائد کیا کہ چینی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے اور مصنوعی قلت کے باعث قوم کو 287 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

جنید اکبر نے حکام سے استفسار کیا کہ شوگر ملوں کو برآمدی سبسڈی کیوں دی گئی اور ٹیکس چھوٹ دینے والے ایس آر اوز اچانک کیوں جاری کیے گئے؟

معین پیرزادہ نے حکومت پر قوم کو لوٹنے کا الزام عائد کیا اور شوگر ایڈوائزری بورڈ کو بدعنوانی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے چینی مافیا کو حکومت کا حصہ قرار دیا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ وزیرِاعظم نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.