پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو مثبت آغاز کے بعد منافع لینے کا رجحان لوٹ آیا، جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس کاروباری دن کے اختتام پر 562 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
مارکیٹ دن کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور کے ایس ای100 انڈیکس انٹراد ڈے کے دوران بلند ترین سطح 139,867.82 پوائنٹس پر پہنچا۔ تاہم جلد ہی فروخت کا دباؤ بڑھ گیا اور انڈیکس کاروباری روز کی کم ترین سطح 138,614.10 پوائنٹس تک گر گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 138,692.67 پوائنٹس پر بند ہوا، جو کہ 561.69 پوائنٹس یا 0.40 فیصد کی کمی ظاہر کرتا ہے۔
بروکریج کمپنی ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ”حالیہ سیشنز میں مضبوط ریکوری کے بعد آج مقامی بازار ایک قدم پیچھے چلا گیا کیونکہ سرمایہ کار رول اوور ہفتے کے آخری دنوں سے قبل منافع کو محفوظ کرنے پر زور دے رہے تھے۔“
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ”آج کے سیشن میں مثبت رجحان اور رول اوور کی وجہ سے احتیاط کے درمیان کشمکش دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں نے منافع حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ جیسے جیسے رول اوور کا دباؤ بڑھتا جائے گا مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے، اور مختصر مدت میں منتخب اسٹاکس میں دلچسپی سمت کا تعین کرے گی۔“
ٹاپ لائن نے بتایا ہے کہ انڈیکس پر سب سے زیادہ منفی اثرات اینگرو، ایچ بی ایل،ایف ایف سی،ماری اور ایفرٹ کے باعث پڑے جنہوں نے مجموعی طورپر انڈیکس کو 506 پوائنٹس نیچے دھکیلا۔ دوسری جانب حبکو،ایم سی بی اور سسٹم نے انڈیکس کو جزوی طور پر سہارا دیا اور مجموعی طور پر 204 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
یاد رہے کہ بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں معمولی دباؤ دیکھنے میں آیا کیونکہ سرمایہ کاروں نے منافع حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ سرمایہ کاروں نے حالیہ تیزی کے تسلسل کا ازسرِنو جائزہ لیا جس کے باعث اہم شعبوں میں محتاط انداز میں فروخت دیکھی گئی۔
بدھ کو بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 165.26 پوائنٹس یا 0.12 فیصد کی کمی سے 139,254.36 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر ایشیائی حصص بازاروں میں تیزی دیکھی گئی جبکہ آسٹریلوی ڈالر جمعرات کو آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اس کی وجہ منافع اور تجارتی سرگرمیوں سے متعلق اُمیدوں نے زیادہ منافع بخش اثاثوں کی طلب کو سہارا دیا۔
ٹوکیو کا ٹوپکس انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جو وال اسٹریٹ پر گزشتہ رات قائم ہونے والے نئے ریکارڈز کے بعد دیکھنے میں آیا۔ جاپان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے نے اس قیاس آرائی کو تقویت دی کہ ممکنہ طور پر مزید معاہدے جلد سامنے آئیں گے تاکہ وسیع پیمانے پر مجوزہ محصولات کو روکا جاسکے۔
ادھر نیسڈیک اور ایس اینڈ پی فیوچرز میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جب گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کے نتائج اندازوں سے بہتر آئے جس سے میگنیفیسنٹ سیون کے منافع کے سیزن کا آغاز مثبت انداز میں ہوا۔
امریکہ نے فلپائن اور انڈونیشیا کے ساتھ بھی تجارتی معاہدے کرلیے ہیں جبکہ یورپی یونین کے ساتھ معاہدہ جلد متوقع ہے۔
یورپی کمیشن کے عہدیداروں کے مطابق، یورپی یونین اور امریکہ ایک ایسے تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جس کے تحت یورپی درآمدات پر 15 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا جب کہ بعض اشیاء پر محصولات سے استثنیٰ دیا جائے گا، ادھر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا ہے کہ امریکہ اور چین کے حکام آئندہ ہفتے اسٹاک ہوم میں ملاقات کریں گے۔
دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ 0.19 فیصد مضبوط ہوا۔ کاروباری دن کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 284.22 روپے پر بند ہوا، جو کہ 54 پیسے کے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
آل شیئر انڈیکس پر حجم میں کمی دیکھی گئی اور یہ 656.64 ملین سے گھٹ کر 648.80 ملین ہو گیا۔
شیئرز کی کل مالیت بھی کم ہو کر 32.09 ارب روپے سے 28.12 ارب روپے رہ گئی۔
بینک آف پنجاب حجم میں سب سے آگے رہا جس کے 113.03 ملین شیئرز کی تجارت ہوئی، اس کے بعد میڈیا ٹائمز لمیٹڈ 37.11 ملین اور ورلڈ کال ٹیلی کام 28.18 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔
جمعرات کو کل 484 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا جن میں سے 182 کے شیئرز میں اضافہ ہوا، 273 میں کمی دیکھی گئی جبکہ 29 شیئرز کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔



Comments
Comments are closed.