پاکستان کاٹن جِنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں کپاس کی فصل مسلسل زوال کا شکار رہی ہے۔ 15 جولائی تک ملک بھر میں صرف 2,97,751 گانٹھیں کپاس کی جننگ فیکٹریوں تک پہنچیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران 2024 میں یہ تعداد 4,42,041 گانٹھیں تھی، جو کہ 32 فیصد کی نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 2024 کی تعداد خود 2023 کے مقابلے میں 48.48 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتی ہے، جب 8,58,007 گانٹھیں تیار کی گئی تھیں۔ یوں گزشتہ دو سال کے اسی عرصے کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو کپاس کی پیداوار میں تشویشناک حد تک 65 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ مسلسل گراوٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک ایک ایسی فصل کے سنگین بحران سے دوچار ہے جو اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے — ایک ایسی فصل جو زرعی معیشت، ٹیکسٹائل صنعت اور مجموعی اقتصادی صحت کے لیے ناگزیر ہے جو غیر ملکی زرِ مبادلہ کا نصف سے زیادہ حصہ فراہم کرتی ہے اور دیہی زراعت و صنعت سے وابستہ لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔
پی جی سی اے کے اعدادوشمار کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ پنجاب نے گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ بہتری دکھائی ہے اور وہاں کپاس کی آمد میں 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا لیکن سندھ اور بلوچستان میں پیداوار میں شدید کمی واقع ہوئی ہے جہاں بالترتیب 53 اور 54 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ تاہم، پنجاب کے اندر بھی کارکردگی متوازن نہیں رہی — کچھ اضلاع میں پیداوار نمایاں طور پر کم رہی ہے جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مجموعی بہتری کے باوجود مسائل بدستور موجود ہیں۔
اور یہ زوال سب سے زیادہ ڈرامائی طور پر رحیم یار خان میں نظر آیا۔ یہ ضلع، جو کبھی اپنی اعلیٰ معیار کی کپاس کے لیے مشہور تھا، گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بتدریج گنے کی کاشت کی جانب منتقل ہوچکا ہے تاکہ یہاں موجود 6 بڑی شوگر مِلوں کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی؛ کپاس کو منصوبہ بندی کے تحت پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے، جہاں بااثر شوگر لابی نے ایسی پالیسی ترغیبات کو فروغ دیا جو گنے کی کاشت کو کہیں زیادہ منافع بخش بناچکی ہیں، اس کے نتیجے میں ضلع رحیم یار خان میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں کپاس کی آمد میں 99 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ پانی کی بہت زیادہ مقدار استعمال کرنے والی گنے کی فصل کے نقصان دہ اثرات سے ہٹ کر بھی، کپاس کے زوال کی وجوہات کہیں زیادہ گہرے اور دیرینہ ساختی مسائل میں پوشیدہ ہیں، جو طویل عرصے سے نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔
ان میں سب سے بنیادی مسئلہ کپاس کی چنائی میں میکانائزیشن کی شدید کمی ہے۔ اس وجہ سے آج بھی ہاتھوں سے چنائی پر انحصار کیا جاتا ہے، جو نہ صرف محنت طلب اور غیر مؤثر طریقہ ہے بلکہ آلودگی کے خطرات بھی بڑھا دیتا ہے، جو بالآخر پیداوار اور فائبر کے معیار کو متاثر کرتا ہے۔
صورتحال کو مزید گھمبیر بنانے والا عنصر بی ٹی کپاس کے بیجوں پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔ یہ جینیاتی طور پر ترمیم شدہ بیج وقت کے ساتھ اپنی کیڑوں سے مزاحمت کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ حکومت اگرچہ اس انحصار کو کم کرنے کی کوششیں کر رہی ہے، مگر پیش رفت سست ہے کیونکہ چھوٹے کاشتکار مالی وسائل اور تکنیکی معاونت سے محروم ہیں، جو انہیں بہتر، موسمیاتی لحاظ سے موافق اور زیادہ پیداوار دینے والے بیج اپنانے کے قابل بنا سکے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں 90 فیصد سے زائد کپاس کی کاشت چھوٹے زرعی رقبوں—پانچ ہیکٹر سے کم—پر ہوتی ہے، جیسا کہ رواں سال کے اوائل میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ میں نشاندہی کی گئی۔ اس طرح کی منقسم زمینداری نہ صرف زمین کے مؤثر استعمال کو محدود کرتی ہے بلکہ جدید زرعی طریقوں اور مشینری کے نفاذ میں بھی رکاوٹ بنتی ہے جس کے نتیجے میں پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
صورتحال کو مزید سنگین بنانے میں موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے—انتہائی درجہ حرارت، بے ترتیب بارشوں کے سلسلے اور زمین کی بگڑتی ہوئی زرخیزی نے فصل پر واضح منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
ایسی فصل کے مسلسل زوال کو، جو پاکستان کی زرعی معیشت اور برآمدی بنیاد کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، فوری پالیسی اقدامات اور ساختی اصلاحات کے ذریعے روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ میکانائزیشن کو اولین ترجیح دینی چاہیے، اور اس کے لیے ہدفی سبسڈی فراہم کی جائے تاکہ چھوٹے کاشتکار جدید آلات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ساتھ ہی بی ٹی کپاس پر حد سے زیادہ انحصار بتدریج ختم کیا جانا چاہیے، جس کے لیے تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) میں سنجیدہ سرمایہ کاری درکار ہے تاکہ مقامی حالات سے ہم آہنگ، کیڑوں سے محفوظ، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی، اور زیادہ پیداوار دینے والی بیج اقسام تیار کی جا سکیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت کو کپاس اگانے والے علاقوں میں گنے کی بے لگام توسیع کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے مؤثر ضابطہ جاتی اقدامات کرنا ہوں گے۔ گنے کے لیے دی جانے والی غیر متوازن مراعات ختم کر کے زرعی پالیسی کو کپاس جیسے اسٹریٹجک فصل کی حمایت کی جانب موڑنا ہوگا۔ اگر یہ جرات مندانہ اقدامات نہ کیے گئے تو کپاس کی فصل زوال کی دلدل میں پھنسی رہے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.