بیوروکریسی عالمی معیار سے ہم آہنگ نہیں، وزیرِ اعظم
وزیرِاعظم شہباز شریف نے ملک کی سول سروس سے متعلق سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے بیوروکریٹک نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا جسے انہوں نے فرسودہ اور عالمی معیار سے مطابقت سے محروم قرار دیا۔
وزیر اعظم نے سول سروس اصلاحات پر ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی — جسے کبھی ریاستی نظم و نسق کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا — اب ایک جدید حکومت کی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں ناکام ہو رہی ہے، جس کی بڑی وجہ غیر مؤثر نظام، سخت درجہ بندی، اور ادارہ جاتی جمود ہے۔
شہباز شریف نے کہا سول سروس کو جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہوں نے اصلاحات کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کی ریاستی صلاحیت کا انحصار بیوروکریسی کی پیشہ ورانہ مہارت اور چابک دستی پر ہے۔
انہوں نے جامع انتظامی اصلاحات کا مطالبہ رکھا، جسے انہوں نے حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ محض نظام کو بہتر بنانے کا معاملہ نہیں، بلکہ وزارتوں کے درمیان ادارہ جاتی ساکھ اور کارکردگی کو بحال کرنے کا سوال ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اصلاحات کے لیے زیادہ جامع اور اشتراکی انداز اپنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ انتظامی اور ادارہ جاتی سول سروس اصلاحات میں نمائندہ سرکاری افسران اور عوامی نمائندوں کی آراء کو ضرور شامل کیا جائے اور واضح کیا کہ تبدیلی یکطرفہ طور پر بالا سطح سے مسلط نہیں کی جاسکتی۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سول سروس اصلاحات کے لیے ایک تفصیلی روڈ میپ پیش کیا۔
انہوں نے بھرتیوں، ترقیاں دینے اور تربیت سے متعلق دیرینہ مسائل کو اجاگر کیا، اور ادارہ جاتی صلاحیت کے عدم استعمال کی طرف توجہ دلائی ۔
اقتصادی امور کے وزیر احد چیمہ نے وزیر اعظم کے خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بیوروکریٹک ماڈل جدید طرزِ حکمرانی کی رفتار اور وسعت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
اگرچہ ابھی تک کوئی باضابطہ ایکشن پلان پیش نہیں کیا گیا، لیکن وزیر اعظم شہباز شریف کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ایک ایسے چیلنج سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہے جسے پاکستان کی انتظامی تاریخ کا سب سے گہرا جڑا ہوا اور سیاسی طور پر حساس مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر


Comments
Comments are closed.